.

ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی سے متعلق قرارداد کی روسی خلاف ورزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے اخبار "ڈائی وِلٹ" نے مغربی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ روس نے ایران پر عائد پابندیوں کی سنگین خلاف ورزی کرتےہوئے ایران کے بعض ساز و سامان ، دفاعی نظام اور بھاری ہتھیاروں کی مرمت کی ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے ایرانی سامان کو فضائی راستے شامی اراضی کے اندر پہنچایا گیا اور پھر وہاں سے سمندر کے راستے روس منتقل کیا گیا۔ یہ اقدام ایران کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اخبار نے 13 اگست بروز اتوار اشاعت میں کہا ہے کہ مغربی سکیورٹی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے رواں برس جون میں دو پروازیں شام کے مغرب میں واقع حمیمیم فوجی ہوائی اڈے بھیجیں ، اس کو روس نے عسکری ساز و سامان کی منتقلی کے لیے اپنا اڈہ بنایا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی ساز و سامان اور دفاعی نظام کو ٹرکوں کے ذریعے حمیمیم سے شام کی بندرگاہ طرطوس پہنچایا جاتا ہے جہاں سے روسی بحری جہاز "سپارٹا 3" اسے چند روز میں بحیرہ اسود پر روسی نوورسِسک کی بندرگاہ پہنچا دیتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور چھ بڑے ممالک کے درمیان طے پائے گئے جامع نیوکلیئر معاہدے کے بعد سلامتی کونسل کی جانب سے جون 2015 میں جاری قرار داد 2231 ایران کو کسی بھی قسم کا ہتھیار یا بھاری عسکری ساز و سامان دینے ، فروخت کرنے یا منتقل کرنے پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اس سامان میں ٹینک ، بھاری ہتھیار ، ہیلی کاپٹر ، لڑاکا طیارے ، جنگی بحری جہاز اور میزائل نظام شامل ہے۔ اس پابندی میں سامان اور ہتھیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال بھی شامل ہے۔

روسی وزیراعظم کے معاون دِمتری روگوسن نے ایرانی وزیر دفاع حسین دہقانی کے ساتھ تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ عسکری اور تکنینی تعاون کو گہرا بنانے سے متعلق اس معاہدے پر دستخط ایران اور روس کے خلاف امریکا کی نئی پابندیوں کے جواب میں کیے گئے۔

دوسری جانب روسی پارلیمنٹ میں دفاعی کمیٹی کے نائب سربراہ فرانٹس کلنسوِچ نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جرمن اخبار "ڈی وِلٹ" کو بتایا کہ روس نے ماضی میں ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ ایران بھیجی تھی جس کو واقعتا مرمت کی ضرورت تھی اور روس نے اس دوران ایرانی ماہرین کو اس مقصد سے تربیت بھی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیت ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدوں کے ضمن میں تھی جو کہ مکمل طور پر بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھی ہے۔

یاد رہے کہ روس اور ایران کے درمیان ہتھیاروں کی منتقلی کوئی نئی بات نہیں۔ امریکی ٹی وی "فوکس نیوز" نے ستمبر 2015 میں روسی اسلحے کی شام کے راستے ایران منتقلی کی رپورٹ دی تھی تاہم روسی وزیر خارجہ کے معاون سرگئی ریبابکوف نے اس وقت رپورٹ کی تردید کر دی تھی۔

چند ماہ قبل روس نے S-300 میزائل ایران کے حوالے کیے تھے۔ اس حوالے ماسکو اور تہران کے درمیان 10 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ چند برس قبل طے پایا تھا۔ تاہم بین الاقوامی پابندیاں اس راہ میں حائل ہو گئیں جس کے سبب تہران کو دیگر اسلحہ حوالے نہیں کیا جا سکا ہے جس میں لڑاکا جیٹ طیارے اور جدید ترین ٹینک شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ایران نے فوج ، پاسداران انقلاب اور عسکری اداروں سے تعلق رکھنے والے عسکری ماہرین کو تربیت ، جنگی فنون کی تعلیم اور تربیتی کورسز کے لے روس بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔