.

ایران کے ساتھ مصالحت کے لیے ثالثی کی درخواست نہیں کی: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے ایران کے ساتھ کسی بھی مصالحتی ثالث کا کوئی مطالبہ نہیں کیا اور اس حوالے سے زیر گردش خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ وضاحت ایک سعودی ذمے دار ذریعے کی جانب سے سامنے آئی ہے۔

ذریعے نے باور کرایا کہ مملکت اپنے موقف پر ثابت قدمی سے ڈٹی ہوئی ہے کہ وہ ایرانی نظام کے ساتھ کسی بھی صورت میں قریب آنے کو مسترد کرتی ہے ، وہ نظام جو خطے اور دنیا بھر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلا رہا ہے اور دیگر ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کرتا ہے۔ مملکت کے نزدیک حالیہ ایرانی نظام کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں کیوں کہ تجربے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ نظام سفارتی قواعد اور آداب اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کا احترام نہیں کرتا اور یہ نظام حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتا ہے۔ مملکت ایرانی نظام کے خطرے اور بین الاقوامی امن و استحکام کے حوالے سے اس کے دشمنانہ اقدامات کو باور کراتی ہے۔ سعودی عرب پوری دنیا کے ممالک پر زور دیتا ہے کہ ایرانی نظام کو اس کے معاندانہ رجحان سے روکنے اور اس کو بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور سفارتی آداب کا پابند بنانے کے لیے کام کریں۔

کچھ روز قبل عراقی وزیر داخلہ قاسم الاعرحی سے منسوب ایک بیان میں دعوی کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سے اُن کے مملکت کے دورے کے دوران درخواست کی کہ وہ ایران کے ساتھ مصالحت کے سلسلے میں ثالثی کا کردار ادا کریں۔

تاہم الاعرجی نے اب اس کی تردید کر ڈالی۔ پیر کے روز "السومریہ نیوز" پر جاری ایک مختصر بیان میں انہوں نے کہا کہ "سعودی عرب نے ایران کے ساتھ مصالحت کے حوالے سے العبادی سے ثالثی کے کردار کی کوئی درخواست نہیں کی"۔