.

تلعفر آپریشن کے آغاز کا اعلان کرنے پرعراقی وزارت دفاع کا ترجمان برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تلعفر معرکے کےحوالے سے انتشار کے بعد عراقی وزیر دفاع نے وزارت کے ترجمان کو برطرف کر دیا ہے۔ ترجمان نے منگل کے روز کہا تھا کہ تلعفر کو واپس لینے کے لیے معرکے کا آغاز ہو گیا ہے جب کہ شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی نے بھی گزشتہ روز اعلان کیا کہ آپریشن کے آغاز کا فیصلہ وہ کرے گی۔

داعش تنظیم کو عراقی شہروں سے باہر نکالنے کے سلسلے میں عراقی فوج کا اگلا ہدف تلعفر شہر ہے۔ یہ شمالی عراق میں نینوی صوبے کے اندر تنظیم کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ مشترکہ کارروائیوں کی کمان کے مطابق شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

عراقی وزارت دفاع کے سابق ترجامن بریگیڈیئر جنرل محمد الخضری نے گزشتہ روز العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو بتایا تھا کہ عراقی فضائیہ نے داعش کے ٹھکانوں کو شدید بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔

الخضری جن کو العربیہ سے گفتگو کرنے کے بعد برطرف کر دیا گیا. انہوں نے باور کرایا تھا کہ عراقی افواج داعش کے زیر کنٹرول تمام علاقوں میں پیش قدمی کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی نے بھی تلعفر آپریشن کے جلد شروع ہونے کا اعلان کیا جس میں ملیشیا کے گروپ بھی شرکت کریں گے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ذرائع نے تلعفر میں داعش تنظیم کے جنجگوؤں کی تعداد کا اندازہ ایک ہزار کے قریب لگایا ہے جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

تلعفر شہر موصل سے 70 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے اور یہاں سکونت پذیر زیادہ تر افراد ترکی کے قریب سمجھے جانے والے ترکمان عراقی ہیں۔ نترکمانوں کے ترکی کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر انقرہ نے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ الحشد الشعبی ملیشیا کو تلعفر کے معرکے سے دور کیا جائے۔