.

حج سیزن میں سکیورٹی ایوی ایشن کے منصوبے کے 3 مراحل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی "جنرل سکیورٹی ایوی ایشن کمانڈ" بھی سکیورٹی سسٹم کے ضمن میں حجاج کرایم کی خدمت میں شریک رہتی ہے۔ سکیورٹی ایوی ایشن نہ صرف خود سکیورٹی کی صورت حال پر کڑی نظر رکھتی ہے بلکہ تمام سکیورٹی اداروں اور مختلف سرکاری سیکٹروں کو بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔

حج سیزن کے دوران سکیورٹی ایوی ایشن کے منصوبے پر تین مراحل میں عمل درامد ہوتا ہے :

پہلا مرحلہ :

بیس ذوالقعدہ سے شروع ہونے والے اس مرحلے میں طیارے اپنے اڈوں سے حرکت میں آ کر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ریجنوں میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد طیارے فضا میں گشت کرتے ہیں تا کہ مقامات مقدسہ یعنی منی ، مزدلفہ ، عرفات ، حرمین شریفین کے مرکزی علاقوں اور ان کو ملانے والے راستوں پر تعمیراتی منصوبوں کی پیش رفت کی جان کاری حاصل کی جا سکے۔

دوسرا مرحلہ :

اس مرحلے پر عمل درامد کا آغاز ذوالحجہ کی ابتدا سے ہوتا ہے۔ اس دوران پروازوں میں مکہ مکرمہ کے مرکزی داخلی راستوں ، مکہ کو جدہ اور مدینہ منورہ سے ملانے والے ہائی ویز پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں سکیورٹی کی صورت حال ، ٹریفک کی آمد و رفت اور حجاج کرام کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔

آٹھ ذوالحجہ یعنی یومِ ترویہ کی صبح تمام افرادی قوت ، تکنیکی امور اور آپریشن میں شریک طیاروں کے ہر دم تیار رہنے کی سطح کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ جہاں فضائی گشتوں کا سلسلے میں اضافہ ہو جاتا ہے اور حجاج کرام کی منی منتقلی پر خاص نظر رکھی جاتی ہے۔

نو ذوالحجہ یعنی یوم وقوف عرفہ کی صبح آپریشن اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ اس دوران ایک گشت میں طیاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ہر گشت میں طیارے کی پرواز کا دورانیہ بھی بڑھا کر تین گھنٹے کر دیا جاتا ہے۔ اس دوران حجاج کرام کی عرفات کی جانب روانگی اور اس کے بعد مزدلفہ منتقلی پر خاص نظر رکھی جاتی ہے۔ دس ذوالحجہ کی صبح منی میں گشت کو بڑھا دیا جاتا ہے تا کہ رمی جمرات کے عمل کے دوران نگرانی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ کا رخ کرنے والے ٹریفک پر بھی نظر رکھی جاتی ہے جہاں حجاج طوافِ زیارت کے لیے جا رہے ہوتے ہیں۔ فضائی گشتوں کا یہ سلسلہ تیرہ ذوالحجہ تک جاری رہتا ہے۔

تیسرا مرحلہ :

اس مرحلے کا آغاز تیرہ تاریخ کے اختتام پر ہوتا ہے جہاں حجاج کرام کی مدینہ منورہ منتقلی کے دوران سکیورٹی ایوی ایشن کے طیارے ان کے ہمراہ رہتے ہیں۔ تمام حجاج کرام کی مدینہ منورہ روانگی تک یہ سلسلہ ذوالحجہ کے اختتام تک جاری رہتا ہے۔

اس کے علاوہ پورے حج سیزن کے دوران مقامات مقدسہ میں طبی نوعیت کے انخلاء کے لیے بھی طیارے تیار رہتے ہیں۔ ان طیاروں میں جدید ترین طبی ساز و سامان ، آلات اور اعلی اہلیت کے حامل ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم موجود ہوتی ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی مریض کو ہنگامی حالت میں فضائی راستے ہسپتال تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔

سکیورٹی ایوی ایشن کے طیاروں میں نصب جدید ترین کیمروں کے ذریعے دراندازی کرنے والی عازمین حج پر بھی کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ اس دوران کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور کمبائن آپریشنز روم کو ان افراد کی نقل و حرکت کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں تا کہ متعلقہ سکیورٹی ادارے ان کو روک لیں اور سرکاری طور پر حج کا اجازت نامہ نہ رکھنے والوں کو آگے جانے سے منع کر دیا جائے۔

سکیورٹی آپریشن میں 16 ملٹی ٹاسک S92 اور بلیک ہوک S70I ہیلی کاپٹر شریک ہوں گے۔ اس دوران مکہ مکرمہ سکیورٹی ایوی ایشن کے اڈے کے علاوہ مقامات مقدسہ میں ایک موسمی اڈہ اور مدینہ منورہ ریجن میں سکیورٹی ایوی ایشن کا موسمی یونٹ ہر دم تیار رہے گا۔