.

لبنان: بدکارمرد کی متاثرہ عورت سے شادی پر سزا معافی کا قانون منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی پارلیمان نے بدھ کے روز ایک متنازع دفعہ کی تنسیخ کے لیے نئے قانون کی منظوری دے دی ہے ۔اس دفعہ کے تحت بدکاری کا مرتکب مرد اگر متاثرہ عورت سے شادی کر لیتا تھا تو وہ اس جرم کی سزا سے بچ سکتا تھا۔

لبنان میں یہ قانون 1940ء کے عشرے سے رائج تھا اور اس کے خلاف گذشتہ کئی سال سے انسانی حقوق کے کارکنان مہم چلا رہے تھے اور اس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

لبنانی قانون کے تحت زنا کے مرتکب مرد کی سزا سات سال قید ہے اور اگر اس کی جنسی ہوس کا نشانہ بننے والی عورت کسی جسمانی یا ذہنی عارضے کا شکار ہے اور وہ خصوصی فرد ہے تو پھر عدالت ملزم جرم ثابت ہونے پر زیادہ بھی سزا دے سکتی ہے۔

لبنان کے مجموعہ تعزیرات میں شامل اس قانون کی دفعہ 522 میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر بدکاری کا مرتکب متاثرہ عورت سے شادی کر لیتا ہے تو پھر اس کے خلاف فوجداری مقدمے کی کارروائی معطل کی جاسکتی ہے لیکن اب پارلیمان نے نئے منظور کردہ قانون کے تحت اس دفعہ کو ختم کردیا ہے۔

لبنان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایک محقق باسم خواجہ کا کہنا ہے کہ ’’ دفعہ 522 کی تنسیخ ایک اہم اقدام ہے اور لبنان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ ناگزیر تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’پارلیمان کو اب کم عمری کی(بچہ) شادی کے خاتمے کے لیے بھی قانون سازی کرنی چاہیے کیونکہ یہ شادی ابھی تک ملک میں قانونی قرار دی جاتی ہے‘‘۔ واضح رہے کہ لبنان کے بعض سماجی طور پر قدامت پسند علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی شادیوں سے عورت کے خاندانوں کو تحفظ حاصل ہوجاتا ہے۔

اگست کے اوائل میں اردن کی پارلیمان نے بھی بدکاری کے مرتکب مردوں کی متاثرہ عورت سے شادی کی صورت میں سزا کی معافی کے قانون کو منسوخ کردیا تھا۔ اس قانون کے تحت بھی اگر کسی عورت کی عصمت ریزی کرنے والا ملزم اس کے ساتھ شادی کر لیتا تھا تو وہ اس صورت میں زنا کے جرم کی سزا سے بچ سکتا تھا۔