.

’تلعفر‘ میں آپریشن جاری، 17 داعشی جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کی جانب سے شمالی شہر تلعفر اور اس کے اطراف میں دولت اسلامیہ ’داعش‘ کے خلاف گذشتہ روز آپریشن کے آغاز میں بمباری کر کے کم سے کم سترہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ کے مطابق عراقی فوج کے ایک سینیر عہدیدار نے بتایا کہ عراقی فضائیہ، بین الاقوامی اتحادی فوج اور عراقی توپخانے سے تلعفر پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کردیے گئے ہیں۔ گذشتہ روز کیے گئے حملوں میں داعش کے 17 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

قبل ازیں عراقی وزارت دفاع کے ترجمان محمد الخضری نے اعلان کیا تھا کہ تلعفر میں داعش تنظیم کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ساتھ ہی عسکری آپریشن کا آغاز ہو گیا ہے اور فضائی حملوں کے اختتام پر زمینی افوج اپنی کارروائی شروع کر دیں گی۔

اس سے قبل الحدث نیوز چینل کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں الخضری نے بتایا تھا کہ تلعفر اور دیگر علاقوں کو داعش تنظیم کے قبضے سے واپس لینے کے لیے زمینی فوج کو حرکت میں لانے کے سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔

ادھر شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے ترجمان نے زور دے کر کہا ہے کہ بعض سیاسی فریقوں کی جانب سے مخالفت کے باوجود ان کی ملیشیا کے گروپ تلعفر آپریشن میں بھرپور طور پر شریک ہوں گے۔ واضح رہے کہ سرکاری طور پر یہ یقین دہانی کرائی جاتی رہی ہے کہ آپریشن میں ملیشیا کا کردار محدود ہو گا۔

اس سے قبل مشترکہ کارروائیوں کی کمان یہ باور کرا چکی ہے کہ تلعفر آپریشن میں الحشد الشعبی کی شرکت ایک متعین ذمے داری تک محدود ہو گی جس کا تعلق تلعفر کے اطراف میں واقع علاقوں سے ہے جب کہ مرکزی حملہ انسداد دہشت گردی فورسز اور ریپڈ ایکشن فورسز کی جانب سے ہو گا۔