.

جبری نظر بندی کے خلاف مہدی کروبی کی احتجاجی بھوک ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سبز انقلاب تحریک کے سرخیل اور اصلاح پسند بزرگ رہ نما مہدی کروبی نے سات سال سے جاری جبری نظر بندی کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مہدی کروبی کی اہلیہ فاطمہ کروبی نے بتایا کہ ان کے شوہر نے بدھ کی صبح سے کھانا پینا ترک کردیا ہے۔ وہ صرف دل کی تکلیف کی دوائی لیتے ہیں۔

’سحام نیوز‘ ویب سائیٹ کے مطابق فاطمہ کروبی نے کہا کہ ان کے شوہر کے دو اہم مطالبات ہیں۔ اول یہ کہ ان کے گھر پرتعینات سیکیورٹی اہلکار وہاں سے نکالے جائیں۔ دوسرا یہ کہ اگر ان کی نظر بندی جاری رکھنی ہے تو ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

فاطمہ کروبی کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کو منصفانہ عدالتی کارروائی شروع کرانے کے مطالبے کا حق ہے۔ انہیں قانونی معاونت اور رہ نمائی کے لیے وکلاء کی خدمات فراہم کی جائیں اور جبری نظر بندی کے خلاف ان کے دلائل کو عدالت میں سنا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سات سال سے جاری جبری نظر بندی نے ان کی زندگی تباہ کردی ہے۔ انہیں عدالت جانے اور اپنے خلاف ریاست کے بلا جواز انتقامی ہتھکنڈوں کو بند کرانے کا حق حاصل ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی اپوزیشن رہ نما 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ایرانی رجیم کے زیرعتاب ہیں۔ سبز انقلاب تحریک کے دو سرکردہ رہ نما مہدی کروبی اور میر حسین موسوی 2011ء سے اپنے گھروں پر نظربند ہیں جہاں انہیں دیگر بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔

ان کے خلاف عدالت میں کوئی مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کی غیر قانونی نظر بندی ختم کرنے کے لیے انہیں قانونی معاونت یا قانونی چارہ جوئی کا حق دیا گیا ہے۔

چوبیس جولائی 2017ء کو مہدی کروبی ے بیٹے تقی کروبی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے والد دل کی تکلیف اور دل کی دھڑکن کم ہونے پر اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد دھاندلی کا الزام عاید کرنے والے اصلاح پسند اپوزیشن رہ نما مہدی کروبی اور میری حسین موسی کو ان کے گھروں پر نظر بند کردیا گیا تھا۔