.

خلیجی سیاحوں کا برطانیہ میں قطری ہوٹلوں کا بائیکاٹ

بائیکاٹ کے باعث ہوٹلوں کا منافع خطرے سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ملکوں سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح موسم گرما کی تعطیلات یورپی ملکوں بالخصوص برطانیہ میں گذارتے ہیں۔ برطانیہ میں قائم قطری ہوٹل ماضی میں خلیجی سیاحوں کے ٹھکانے ہوتے تھے مگر اس بار خلیج ممالک سے آنے والے سیاحوں نے لندن میں قائم قطری ہوٹلوں کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لندن میں قائم ایسے تمام ہوٹل جن میں قطری حکومت کا قطر کے کسی سرکاری ادارے اور کمپنی کی طرف سے سرمایہ کاری کی گئی ہے بائیکاٹ کا سامنا کررہے ہیں۔ اس بائیکاٹ نے ہوٹلوں کی رونقیں ماند کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سنگین مالی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ ان ہوٹلوں اور ریستورانوں سے ہونے والی آمدن میں کمی کے بعد ان کے منافع کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

لندن شہر کو روایتی طور پرسعودی اور اماراتی سیاحوں کا مرکز کہا جاتا ہے۔ یہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں عرب ملکوں سے سیاح آتے اور چھٹیاں گزارتے ہیں۔ یہاں کے لکژری ہوٹل خلیجی سیاحوں سے بھرے رہتے ہیں۔

برطانوی اخبار ’فائنشنل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ملکوں سے آنے والے سیاحوں نے قطر کی معاونت یا اس کی سرمایہ کاری سے چلنے والے تمام ہوٹلوں کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔ ایسے تمام ہوٹل جن کی آمدن قطر کو جاتی ہے خلیجی ملکوں کے گاہکوں کے بائیکاٹ کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ بائیکاٹ اس وقت سے جاری ہے جب تین ماہ قبل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے دوحہ پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عاید کرتےہوئے اس کا سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کردیا تھا۔ یوں ان چار عرب ممالک کی طرف سے دوحہ کے اقتصادی بائیکاٹ کے اثرات سات سمندر پار بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق لندن میں پنج ستارہ ہوٹل ’کلاریڈجز‘ عموما خلیجی ملکوں سے آنے والی ’وی آئی پی‘ شخصیات کا پڑاؤ ہوتا۔ یہ ہوٹل لندن کے مشہور زمانہ ہائیڈ پارک اور قطری سفارت خانے کے قریب واقع ہے۔

اس کے علاوہ ’دی کاؤنٹ‘ نامی ایک فائیو اسٹار ہوٹل بھی خلیجی سیاحوں کا مرکز رہا کرتا تھا مگر قطر کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات کی بناء پر اس بار اسے بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ نائٹسبریج میں قائم بیرکلے ہوٹل اور قطر کی ہولڈنگ کمپنی ’ Constellation Hotels‘ کے ریستوران کا بھی بائیکاٹ جاری ہے۔

لندن میں قائم ایک ’چرچل‘ ہوٹل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں سابق قطری وزیراعظم الشیخ حمد بن جبر آل ثانی کی سرمایہ کاری شامل ہے بھی بلیک لسٹ ہے۔

فرانس کے شہر ’کان‘ میں واقع کٹارا ہوٹلنگ کمپنی کا ’کارلٹن‘ ہوٹل بھی قطر کی وجہ سے بائیکاٹ کا سامنا کررہا ہے۔

فائنشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق قطر نے صرف برطانیہ میں 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس میں ایک وافر حصہ ہوٹلنگ کے شعبے میں ہے۔ ان ہوٹلوں کے سب زیادہ گاہک مقامی لوگوں کے بعد خلیجی ممالک کے شہری ہیں۔