.

"اپنی اولاد کو شام بھیجو".. ایرانی عوام اپنی قیادت پر پھٹ پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر سرگرم ایرانی کارکنان کی جانب سے "واٹس ایپ" اور " ٹیلی گرام" پر ایک پیغام پھیلایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے اپنے ملک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی اولاد کو "حرم کے دفاع" کے نام پر شام میں جنگ کے لیے بھیجیں۔ یہ وہ ہی لوگو ہے جس کے نام پر ہزاروں ایرانی نوجوان اپنی جانوں کو گنوا چکے ہیں۔

ایران 2012 سے بشار الاسد کی حکومت اور خطے میں توسیع پسندی کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کے دفاع کے لیے ایرانی، افغانی اور پاکستانی ملشیاؤں شام کی جنگ میں جھونک رہا ہے۔

بشار الاسد کی بقاء کی خاطر اپنے ملک کے مالی اور جانی نقصان کے مخالف ایرانی نوجوانوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ " شام میں جنت کے دروازے ابھی تک کھلے ہوئے ہیں مگر افسوس کہ ملک کے ذمے داران شام میں لڑنے کے لیے نہیں گئے اور وہ محض اپنے مذہبی پیغام کو زبانی طور پھیلانے اکتفا کیے بیٹھے ہیں"۔

ایران کے اندر کی رپورٹوں کے مطابق شام میں ایرانی ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے ، ان میں آخری ہلاکت محسن حججی نام نوجوان کی ہوئی۔

دو روز قبل تہران میں ایک خاتون کی وڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ محسن حججی کی تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بلند آواز سے ملک کے حکام کو پکارتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ مزید نوجوانوں کو موت کے میدان کی بھینٹ چڑھانے کے لیے نہ بھیجا جائے اور یا پھر حکام اپنی اولاد کو شام میں "حرم" کے دفاع کے واسطے بھیجیں۔

شام میں مارے جانے والے ایرانیوں میں سب سے زیادہ شہریوں کا تعلق دارالحکومت تہران سے ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر قُم شہر ہے۔ اس کے بعد کرمان شاہ، مازندران، کیلان، سمنان، کرمان، یزد اور پھر اہواز ہے۔