.

غربِ اردن: اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے فلسطینی لڑکا شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فورسز نے غربِ اردن میں ایک چیک پوائنٹ پر ایک فلسطینی لڑکے کو گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا ہے۔اس نے مبینہ طور پر اسرائیلی پولیس اہلکاروں پر چاقو حملہ کیا تھا جس سے ایک افسر زخمی ہوگیا تھا۔

فلسطین کی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز فائرنگ کا یہ واقعہ غربِ اردن میں ایک اسرائیلی چیک پوائنٹ پر پیش آیا ہے۔ فلسطینی لڑکے کی شناخت قتیبہ ظہران کے نام سے کی گئی ہے اور اس کی عمر سترہ سال تھی۔وہ گولی لگنے کے فوری بعد جان کی بازی ہا رگیا تھا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی حملہ آور نے نابلس شہر کے نزدیک واقع تاپواہ جنکشن پر ایک افسر کو ٹانگ میں چاقو گھونپ دیا تھا۔اس افسر کو معمولی زخم آیا ہے اور اس کو اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2015ء سے اب تک اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ بیت المقدس ، غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں سفاکانہ کریک ڈاؤن کارروائیوں، فائرنگ اور حملوں میں 255فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں نصف سے زیادہ کے بارے میں اسرائیلی فوج کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے۔

اس عرصے کے دوران میں فلسطینیوں کے مبینہ چاقو حملوں ،فائرنگ یا اپنی گاڑیوں کو راہ گیروں پر چڑھانے کے واقعات میں 48 اسرائیلی ، دو امریکی ، ایک برطانوی ،ایک اردنی،ایک سوڈانی اور ایک ایریٹرین شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔