.

اردن، مصر، فلسطین کا اسرائیل سے امن بات چیت بحال کرنے پر زور

تنازع فلسطین حل کیے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مشرق وسطیٰ میں دیرپا قیام امن، فلسطین، اسرائیل تنازع کے منصفانہ حل اور دو ریاستی فارمولے پرعمل درآمد پر غور کے لیے سہ فریقی اجلاس ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر، اردن اور فلسطین پر مشتمل تین رکنی گروپ کے وزاراء خارجہ کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں براہ راست مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں مصری وزیرخارجہ سامح شکری، اردن کے ایمن الصفدی اور فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے شرکت کی۔

قاہرہ میں ہونے والے دوسرے سہ فریقی وزراء خارجہ کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک اسرائیل کی جانب سے ختم کیے گئے امن مذاکرات کی بحالی کے مطالبے پرقائم ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک مسئلہ فلسطین کے حل نہ ہونے کو خطے میں جاری عدم استحکام کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ مصر، اردن اور فلسطینی اتھارٹی اس بات پرمتفق ہیں کہ جب تک تنازع فلسطین کا منصفانہ حل نہیں نکالا جاتا اس وقت تک خطے کی عوام امن کےساتھ آگے نہیں بڑھ سکیں گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی عمل میں حائل جمود کو ختم کرکے امن بات کا احیاء کیا جائے۔ فلسطینی اور اسرائیل مخصوص ٹائم فریم کے اندر اندر مذاکرات مکمل کریں۔ تمام تنازعات کا جامع حل نکالا جائے اور عالمی قراردادں بالخصوص اقوام متحدہ کے فیصلوں کی روشنی اور 2002ء کے عرب امن فارمولے کے مطابق ایک آزاد اور مکمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔

بیان میں تینوں ملکوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے قانونی اور تاریخی اسٹیٹس کا احترام کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ تینوں ملکوں نے مشرقی بیت المقدس میں مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے عرب ممالک کی سطح پر رابطے بڑھانے پربھی اتفاق کیا گیا۔