.

ایران کا خطرہ یمن کے مستقبل کے لیے چیلنج ہے : یمنی نائب صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نائب صدر لیفٹننٹ جنرل علی محسن صالح الاحمر نے باور کرایا ہے کہ ایران پوشیدہ خطرات سے بھری ایسی گھات ہے جو یمن کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے۔

یمنی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق علی محسن نے زور دے کر کہا کہ باغی حوثیوں کی جماعت دراصل یمن میں ایران کا آلہ کار ہے اور یمنی عوام ایران کے لیے حوثیوں کی وفاداری کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمنی فوج ان بیرونی عناصر کے احکامات کے مثبت جواب کو مسترد کر دے گی جنہوں نے یمنی فوجیوں کی زندگیوں اور عسکری ساز و سامان کو نشانہ بنایا اور انہیں اپنے یمنی بھائیوں کے ساتھ بے فائدہ جنگ میں جھونک ڈالا۔

یمنی نائب صدر کا یہ بیان ایک مرتبہ پھر ایران کے اس منفی کردار کو باور کراتا ہے جو وہ ایک ایسے ملک میں ادا کر رہا ہے جہاں ہیضے کی وبا اور بغاوت میں شریک فریقوں کے اختلافات نے سنگین بحرانات کو جنم دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ پانچ روز کے دوران یمن میں ہیضے کی وبا سے متاثرہ مزید 22 افراد کے فوت ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح رواں سال اپریل کے اواخر سے اب تک اس بیماری میں مبتلا ہو کر لقمہ اجل بننے والوں کی مجموعی تعداد 1997 ہو چکی ہے۔

جہاں تک بغاوت میں شریک دونوں فریقوں حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کا تعلق ہے تو ان کے اختلافات میں تازہ ترین پیش رفت ہفتے کے روز علی صالح کی جانب سے حوثیوں پر کی جانے والی تنقید ہے۔ اس میں سابق صدر نے حوثیوں کی انقلابی کمیٹیوں کے ذمے داروں کو بدعنوانی اور عوام کا مال کھانے کا مورودِ الزام ٹھہرایا۔