.

اسرائیل نے گھروں کے انہدام کے اخراجات فلسطینیوں پر ہی تھوپ دیے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی کنارے کے شہر بئر السبع میں اسرائیلی عدالت نے العراقیب گاؤں سے تعلق رکھنے والے چھ فلسطینیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام کے ہاتھوں اپنے گھروں کے انہدام پر ہونے والے اخراجات کی مد میں ستر ہزار ڈالر کی ادائیگی کریں۔ عدالت نے مذکورہ افراد کو پابند کیا ہے کہ وہ اسرائیلی استغاثہ کے دفتر میں شہری امور کے شعبے کو بھی بطور محنتانہ 30 ہزار ڈالر ادا کریں۔

اسرائیلی استغاثہ نے اگست 2011 میں العراقیب سے تعلق رکھنے والے 34 عربوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس کے تحت مذکورہ افراد سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جولائی 2010 سے دسمبر 2010 کے درمیان گھروں کے انہدام کی آٹھ کارروائیوں اور مذکورہ گاؤں کو خالی کرانے پر آنے والے اخراجات کی مد میں متعلقہ تمام حکام اور افراد کو رقم کی ادائیگی کریں۔ ان اخراجات کا اندازہ 5 لاکھ ڈالر لگایا گیا تھا۔

اس دوران دو فلسطینی وفات پا گئے اور 26 نے ریاست کے ساتھ تصفیہ کر لیا جب کہ صرف چھ نے قانونی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ بدھ کے روز اسرائیلی عدالت کے جج نے ان چھ افراد کے خلاف اخراجات کی مد میں 2.62 لاکھ شیکل اور عدالتی اخراجات کی مد میں 1 لاکھ اضافی شیکل کی ادائیگی کا فیصلہ سنایا۔

متاثرہ چھ فلسطینیوں کے وکیل خالد صوالحی کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے پر غور کر رہےہیں۔ صوالحی کے مطابق ریاست نے غیر قانونی طور پر گاؤں کو منہدم کیا اور پھر ایک غیر قانونی کارروائی کی مد میں معاوضہ بھی طلب کر لیا۔
اسرائیل نے 1954 میں اراضی کو ملکیت میں لینے کے قانون کے تحت نقب کے علاقے میں وسیع اراضی پر قبضہ کر لیا تھا جس میں العراقیب گاؤں بھی شامل ہے۔

گاؤں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور برطانوی مینڈیٹ نے بھی اس زمین پر ان کی ملکیت کے حق کو تسلیم کیا تھا لہذا اسرائیل کو بھی اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ تاہم اسرائیل اس کو مسترد کرتا ہے اس کی عدالتوں نے کئی مرتبہ العراقیب کے رہنے والوں کے موقف کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ "ان لوگوں نے ایسی کوئی دستاویز پیش نہیں کی جس سے زمین پر ان کی ملکیت کی تصدیق ہوتی ہو"۔