.

تلعفر میں شہریوں کے داعش کے ہاتھوں انسانی ڈھال بننے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جانب سے خبردارکیا گیا ہے کہ تلعفر میں عراقی افواج کی طرف سے داعش کے خلاف گھیرا تنگ ہونے کے بعد تنظیم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔

ادھر انسانی حقوق کے ہائر کمیشن نے عراقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ داعش تنظیم کے ہاتھوں حقوق کی پامالی کا شکار ہونے والی ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کی مدد کے لیے مزید کوششیں کرے۔ حقوق کی اس پامالی کا ذکر اقوام متحدہ نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں کیا۔

ایک طرف تلعفر میں عراقی فوج کی پیش قدمی اور داعش تنظیم کے ساتھ لڑائی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف ساتھ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے انسانی صورت حال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائر کمیشن کے ترجمان آندے ماہیسچ کا کہنا ہے کہ "ہمیں اندیشہ ہے کہ عراقی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر یرغمال نہ بنا لیا جائے۔۔ بعض رپورٹوں کے مطابق کچھ عراقی خاندانوں کو تلعفر سے فرار ہو کر محفوظ مقام تک پہنچنے سے محروم کر دیا گیا ہے"۔

اس دوران انسانی حقوق کے ہائر کمیشن کی ترجمان لیز تھروسل کا کہنا ہے کہ داعش کے قبضے میں آنے والی خواتین اور لڑکیاں بالخصوص جن کا تعلق یزیدی کمیونٹی اور دیگر اقلیتوں سے ہے ان کو انسانی حقوق اور ان سے متعلق بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی تنظیموں نے توقع ظاہر کی ہے کہ لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ ہی تلعفر سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔

ادھر ہجرت کی بین الاقوامی تنظیم کی ترجمان اولیویا ہیڈن کا کہنا ہے کہ "ہمیں ہزاروں افراد کے بارے میں رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں جو تلعفر کے اطراف لڑائی کے سبب فرار ہو رہے ہیں۔ 18 اگست سے اب تک الحاج علی کے علاقے میں ہجرت کی بین الاقوامی تنظیم کے ہنگامی مرکز میں تقریبا 1500 شہریوں کا استقبال کیا گیا جب کہ القیارہ میں قائم مرکز میں 1700 سے زیادہ افراد پہنچ چکے ہیں"۔