.

عراق: تلعفر سے 24 گھنٹوں میں 10 ہزار لوگوں کی نقل مکانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر موصل کے مغرب میں واقع تلعفر میں داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پر شہریوں نے نقل مکانی شروع کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کےدوران کم سے کم 10 ہزار افراد گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ تلعفر سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چالیس ہزار سے زاید ہوگئی ہے۔

عراقی فوج کےایک ذریعے کا کہنا ہے کہ تلعفر سے فرار ہونےوالے شہریوں کے لیے شہر کے اطراف میں متعدد مقامات پر پناہ گزین کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں نقل مکانی کرنے والوں کو منتقل کیا جا رہا ہے۔

شمالی عراق کے شہر تلعفر میں گذشتہ چار روز سے جاری فوجی آپریشن میں داعش اور سرکاری فوج کےدرمیان گھمسان کی جنگ کی اطلاعات ہیں۔ عراقی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آپریشن کے پہلے تین ایام میں متعدد اہم مقامات کو داعش سے چھڑا لیا ہے۔

عراقی فوج کی جوائنٹ آپریشنل کمانڈ، فوج، انسداد دہشت گردی یونٹ اور دیگر اداروں نے تلعفر کے مرکز اور آس پاس کی متعدد کالونیوں پر حملے کیے ہیں۔ آپریشن کےدوران النور اور الکفاح کالونیوں سے دہشت گردوں کو نکال باہر کیا گیا ہے۔

تلعفر آپریشن میں عراقی فوج کو بین الاقوامی اتحادی فوج کی معاونت بھی حاصل ہے۔ اتحادی فوج کے جنگی طیارے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موصل میں شکست کے بعد داعشی جنگجوؤں کے پاؤں پہلے ہی اکھڑ چکے ہیں اوران میں بد نظمی اور خوف پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد فرار کی کوششیں کر رہے ہیں۔

عراقی فوج کے ایک ذریعے نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے تلعفر آپریشن میں درپیش مشکلات کا تذکرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق جبل ساسان اور مشرق میں الشیخ ابراہیم کے پہاڑی علاقوں کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جبل ساسان اور الشیخ ابراہیم پہاڑوں پر داعش کے دو جنگجو کمانڈر حسن الحبوری اور ترکمانی نژاد ھاشم فرحات جنگجوؤں کی قیادت کررہے ہیں۔ ان پہاڑی علاقوں میں آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہیلی کاپٹر سے فوجی اتارے جانے کے امکانات ہیں۔