.

یمن : حوثیوں کا معزول صدر علی عبداللہ صالح پر "غدّاری" کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں نے آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کی کارروائی میں اپنے بنیادی حلیف معزول صدر علی عبداللہ صالح پر "غدّاری" کا الزام عائد کیا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ علی عبداللہ صالح نے انہیں "ملیشیا" قرار دیا جس کے نتائج معزول صدر کو بھگتنا ہوں گے۔

علی عبداللہ کی جماعت "جنرل پیپلز کانگریس" کے قیام کے 35 سال مکمل ہونے پر معزول صدر کے حامیوں نے جمعرات کے روز صنعاء میں خصوصی ریلی نکالنے کا پروگرام بنایا ہے تاہم حوثیوں کے ساتھ کشیدگی کے سبب اس موقع پر پر تشدد واقعات کا سخت اندیشہ ہے۔

بدھ کے روز حوثیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صالح نے جو کچھ کہا وہ "سرخ لکیر سے تجاوز" کے مترادف ہے۔ علی عبداللہ صالح نے اتوار کے روز اپنے ایک خطاب میں حوثیوں کو ایک "ملیشیا" قرار دیا تھا۔

حوثیوں کی جانب سے "عوامی کمیٹیوں" کے نام سے قائم کردہ ملیشیاؤں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ علی عبداللہ صالح کی جانب سے حوثیوں کے لیے بیان کیا جانے والا یہ وصف "پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور عین غداری" کے مترادف ہے۔

حوثیوں کی جانب سے جاری بیان میں پہلی مرتبہ علی عبداللہ صالح کے لیے "معزول" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مبصرین نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات اس نہج تک پہنچ کے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔

حوثی ملیشیا کی جانب سے حالیہ بیان اپنے حلیف معزول علی عبداللہ صالح کے خلاف اب تک کی خطرناک ترین چڑھائی ہے۔ اس سے قبل فریقین کے درمیان الزامات اور میڈیا میں بیان بازی کا تبادلہ کافی عرصے سے چل رہا ہے۔ حوثیوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جمعرات 24 اگست کو دارالحکومت صنعاء میں علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی جانب سے "پیپلز کانگریس" کے قیام کی سال گرہ سے متعلق سرگرمیوں اور ریلی کو ناکام بنا دیں۔