.

سعودی عرب شامی عوام کے کسی بھی فیصلے کی حمایت کرے گا: اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے شام میں جاری تنازع کے حل کے لیے شامی عوام کے کسی بھی فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

یہ بات شامی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ریاض نعسان آغا نے الریاض میں حزب اختلاف کی کانفرنس کے اختتام پر ایک بیان میں کہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب نے شامی بحران کے حوالے سے رونما ہونے والی بین الاقوامی تبدیلیوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت پر زوردیا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ شامی عوام جو بھی فیصلہ کریں گے ، سعودی حکومت اس کی حمایت کرے گی۔

انھوں نے یہ بیان شامی حزب اختلاف کے ایک دھڑے ’’ماسکو پلیٹ فارم‘‘ کے سربراہ قدری جمیل کے الریاض میں ایک مشترکہ وفد تشکیل دینے کے لیے منعقدہ کانفرنس میں گفتگو کے جواب میں جاری کیا ہے۔قدری جمیل نے کہا تھا کہ انھوں نے شامی بحران کے حوالے سے سعودی عرب کے موقف میں تبدیلی ملاحظہ کی ہے۔

بعد میں ریاض نعسان آغا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی شامی عوام کے بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے فیصلے پر پختہ عزم رکھتی ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی شرط نہیں ہے بلکہ اب تک شامی مذاکرات کا حاصل ہے۔

انھوں نے ماسکو پلیٹ فارم کے باقی حزب اختلاف سے موقف میں فرق کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ ’’ وہ بشارالاسد کی رخصتی کا سرے سے ذکر ہی نہیں کرنا چاہتا ہے لیکن ہم نے اس پر واضح کیا ہے کہ شامی صدر کی موجودگی میں سیاسی انتقال اقتدارممکن نہیں ہے‘‘۔

تاہم نعسان آغا کا کہنا تھا کہ ’’ماسکو پلیٹ فارم کے لیے دروازے اب بھی کھلے ہیں اور توقع ہے کہ وہ اکتوبر میں ہونے والی حزب اختلاف کی کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ مذاکرات ابھی ناکام نہیں ہوئے ہیں۔میرے خیال میں سعودی عرب اس مجوزہ الریاض کانفرنس میں ماسکو پلیٹ فارم کو بھی مدعو کرے گا‘‘۔