.

قطری بینکوں سے 4 ارب ڈالر عنقریب نکلنے کا اندیشہ

حالیہ بحران میں قطری بینکوں کو نئے سرمایہ کاروں کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر اور اس کے خلیجی پڑوسی ممالک کے درمیان دو ماہ سے جاری سفارتی اور اقتصادی تنازع نے دوحہ کے بینکنگ سیکٹر پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ علاقائی اور عالمی سرمایہ کار قطری بینکوں سے اپنی رقوم نکلوا رہے ہیں جس کے نتیجے میں قطر کو مزید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اگلے چند ہفتوں کے دوران قطری بینکوں سے مزید چار ارب ڈالر کی رقم نکل جائے گی۔ قطری بینکنگ سیکٹر اس خلاء کو پر کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے تعاون کےحصول کے لیے کوشاں ہے اور ساتھ ہی اسے نئے سرمایہ کاروں کی بھی تلاش ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بینکوں سے رقوم کے اخراج اور اس کے نتیجے میں درپیش معاشی دباؤ کے بعد قطر کے مرکزی بینک کو ان بینکوں کی فہرست جاری کرنا پڑی ہے جنہوں ںے دوحہ کے ساتھ لین دین ختم یا محدود کردیا ہے۔

موجودہ بحرانی صورت حال سے لگتا ہے کہ قطری بینکوں سے رقوم کے نکلنے کے بعد دوحہ کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خلیجی ملکوں کے سرمایہ کاروں کی طرف سے قطری بنکوں سے رقوم نکلوائے جانے کے بعد دوحہ کی توجہ ایشیائی اور یورپی منڈیوں پر ہے۔

قطری حکومت کے ذمہ دار ذرائع نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ نیشنل بینک تائیوان میں ’formosa‘ بانڈز جاری رکنے کی تیاری کررہا ہے۔ یہ بانڈز تائیوان میں دوسرے غیرملکی مالیاتی ادارے اور بینک بھی جاری کرتے ہیں مگر یہ تائیوانی کرنسی میں نہیں ہوتا۔

قطری بنک اس اقدام کے تحت تائیوان میں چھ ارب ڈالر کے بانڈز جاری کرے گا جو آئندہ سال کے وسط تک استعمال کیے جائیں گے۔

اسی طرح قطری اسلامی بینک دوسرے ملکوں کے کرنسیوں بالخصوص جاپانی اور آسٹریلوی کرنسیوں میں لین دین پر غور کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بینک یورپ اور ایشیائی ملکوں کی کرنسیوں کو بھی شامل کرسکتا ہے۔

قطر کے مرکزی بنک کی رپورٹ کے مطابق دوحہ اور گروپ چارکے درمیان پیدا ہونے والے سفارتی تنازع کے بعد قطری بنکوں میں رکھا 7.5 ارب ڈالر کا سرمایہ نکل گیا ہے جب کہ قطری بنک متبادل قرض اور دیگر مدات میں رکھی 15 ارب ڈالر مالیت کی رقم سے محروم ہوگئے ہیں۔ پیش آئند مہینوں میں مزید تین سے چار ارب ڈالر قطری بنکوں سے نکل جائیں گے۔