.

قطری سفیر کی تہران واپسی سے دوحہ کے "تقیّہ" کا پول کھل گیا: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ قطر کے سفیر کی تہران واپسی کے فیصلے کے ساتھ دوحہ کی جانب سے ایک وسیع اور گڈمڈ وضاحتی مہم بھی نظر آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ چکر بازی ہے جو قطر نے یمن اور ایران کے حوالے سے اپنے موقف میں اپنا رکھی ہے۔

جمعے کے روز ٹوئیٹر پر جاری اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں قرقاش نے کہا کہ امارات کے ایران کے ساتھ تجارتی تبادلے کو قطری سفیر کی واپسی کے لیے جواز بناتے ہوئے اس بات کو نظر انداز کردیا گیا کہ خلیج میں ایران کے بنیادی مفادات قطر کی گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطری سفیر کی تہران واپسی دوحہ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے جس نے اس کے سیاسی تقیہ کا پول کھول دیا ہے۔

قطر نے بدھ کے روز اپنے سفیر کی ایران واپسی کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل رواں برس جنوری میں سعودی عرب کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے پر دوحہ نے تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کی خواہاں ہے۔
یاد رہے کہ قطر کی حکومت یمن کے حوالے سے اپنے موقف کو انوکھا رنگ دینے پر تُلی ہوئی ہے۔ یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کے زیر قیادت تشکیل کردہ عرب اتحاد سے قطر کے نکالے جانے کے بعد دوحہ نے اپنے میڈیا کے ذریعے عرب اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ قطری ذرائع ابلاغ یمن میں آئینی حکومت کی سپورٹ کرنے اور بغاوت کو ختم کرنے کے واسطے قائم عرب اتحاد کو وہاں کی تمام تر صورت حال یہاں تک کہ ہیضے کی وبا کے پھیلنے کا بھی ذمے دار ٹھہرا رہا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کی شام کی جانے والی ٹوئیٹس میں انور قرقاش نے باور کرایا کہ دوحہ آگے کی جانب فرار اختیار کر کے بحران کے حل کے بقیہ ماندہ مواقع بھی سبوتاژ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر کی جانب سے دانش مندی اختیار نہ کیے جانے کے سبب بحران نے پیچیدہ ترین صورت اختیار کر لی ہے۔ قرقاش کے مطابق قطر پر تزویراتی زاویے اور ملک و قوم کے مفاد کے بجائے تدبیریں اور میڈیا سے حاصل منفعتیں غالب آ گئیں۔ اماراتی وزیر کے نزدیک قطر کو بحران سے نمٹنے میں خلیجی ریاست کے طور پر اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے تھا تاہم حالیہ بحران میں اس بنیاد کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔