.

بشار کے کوچ کے لیے کوئی پیشگی شرط نہیں : فرانسیسی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے باور کرایا ہے کہ اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کے باوجود داعش تنظیم کے خلاف معرکہ جاری ہے۔

ہفتے کے روز بغداد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ جاری رکھنا اپنی جگہ پر ہے مگر شام میں سیاسی حل تلاش کرنے کے حوالے سے غفلت نہیں برتنا چاہیے"۔ لودریاں نے واضح کیا کہ عبوری مرحلے کے دوران شامی صدر بشار الاسد کی رخصتی کے حوالے سے کوئی پیشگی شرط نہیں ہے اور شام میں بنیادی معاملہ داعش کے خلاف لڑائی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے اس جانب اشارہ کیا کہ شام میں سیف زون کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تا کہ پورا ملک اس میں شامل ہو سکے۔

دوسری جانب فرانس کی وزیر دفاع فلورنس پارلے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امن کی طرح جنگ کے وقت میں بھی ہمیشہ عراق کے شانہ بشانہ ہو گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ اس وقت تمام تر توجہ عراق میں تلعفر کے فوجی آپریشن پر مرکوز ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع ہفتے کے روز بغداد پہنچے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں وزراء عراقی رہ نماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں داعش تنظیم کے خلاف جنگ ، تباہ حال شہروں میں استحکام اور بے گھر افراد کی مدد کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

یاد رہے کہ فرانس امریکا کے زیر قیادت اُس بین الاقوامی اتحاد کا مرکزی شریک ہے جو داعش تنظیم کے خلاف بغداد حکومت کی مدد کر رہا ہے۔ داعش نے 2014 میں عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔