.

عراقی فورسز کا تلعفر شہر پر دوبارہ قبضہ ،داعش شکست سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فورسز نے داعش کے خلاف لڑائی کے بعد تلعفر شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور اب اس شہر کو داعش کے جنگجوؤں سے پاک کیا جارہا ہے۔

عراقی فوج کے کمانڈر جنرل عبدالعامر یاراللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی سروس ( سی ٹی ایس ) کے یونٹ ہفتے کے روز شہر کے مرکزی حصے میں پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے سلطنت عثمانیہ کے دور سے تعلق رکھنے والے قلعے اور بساتین کے علاقے پر قومی پرچم لہرا دیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ سی ٹی ایس اور وفاقی پولیس کے یونٹوں نے شہر کے جنوب اور مغرب سے مرکز کی جانب دھاوا بولا تھا۔تلعفر کے شمال میں واقع نواحی علاقوں میں ابھی جھڑپیں جاری ہیں اور عراقی فورسز داعش کے زیر قبضہ چند ایک ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔

عراقی فورسز نے آج تلعفر کے تین شمالی علاقوں اور قلعے کے مغرب میں واقع علاقے الرابعہ پر بھی دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ایک اور روز قبل انھوں نے جنوبی علاقے الطالیہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے داعش کے جنگجو پسپا ہوگئے تھے۔

داعش نے اس شہر پر 2014ء سے قبضہ کررکھا تھا۔یہ موصل سے ستر کلومیٹر مغرب میں شام کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے ۔ داعش کے قبضے سے قبل اس شہر کی آبادی دو لاکھ نفوس پر مشتمل تھی ۔حالیہ دنوں میں اس شہر سے ہزاروں افراد اپنا گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ اتوار کے روز تلعفر پر دوبارہ کنٹرول کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔انھیں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد حاصل رہی ہے اور اتحادی طیارے اس شہر میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہے ہیں جس سے زمینی فورسز کو تیز رفتاری سے پیش قدمی میں مدد ملی ہے۔

تلعفر پر مکمل کنٹرول کے بعد توقع ہے کہ عراقی فورسز بغداد سے تین سو کلومیٹر شمال میں واقع قصبے حوائجہ میں داعش کے خلاف کارروائی شروع کریں گی۔ عراقی فورسز نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں داعش کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں ۔تاہم سخت گیر جنگجو مغربی صوبے الانبار میں ا بھی تک موجود ہیں اور ان کا شام کی سرحد کے ساتھ واقع بیشتر علاقوں پر کنٹرول ہے۔ وہ وہیں سے شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں کی جانب جاتے آتے رہتے ہیں۔