.

قطر کو مطلوب ہیکنگ ملزمان ترکی میں مل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی جانب سے بنا کسی ثبوت کے کئی مرتبہ سرکاری طور پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ رواں سال مئی میں اس کی خبر رساں ایجنسی کی "نام نہاد" ہیکنگ کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا ہاتھ ہے۔ تاہم اب قطر کا کہنا ہے کہ اس کے حلیف ترکی نے مبینہ جعلی ہیکنگ کے حوالے سے پانچ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

قطر کے اٹارنی جنرل علی بن فطیس المری کے مطابق دوحہ نے اندرونی اور بیرونی سطح پر واقعے کی تحقیقات کیں اور دوست ممالک سے تعاون کی درخواست کی جن میں ترکی شامل ہے۔

قطری اسغاثہ نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کے حکام نے مذکورہ پانچوں گرفتار شدگان کے ساتھ پوچھ گچھ کا آغاز کر دیا ہے اور تحقیقات کے اختتام پر نتائج کا انکشاف کیا جائے گا۔

گزشتہ ماہ قطر کی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ ہیکنگ کے واقعے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کارروائی کے لیے امارت کے اندر دو "انٹرنیٹ ایڈریس" استعمال کیے گئے۔

امارات پر الزامات کے حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلی جنس کے ذمّے داران کے حوالے سے بتایا تھا کہ ہیکنگ قرار دی جانے والی کارروائی کا انتظام متحدہ عرب امارات نے ہی کیا تھا۔

قطر کے سرکاری رابطہ بیورو کے بیان میں امریکی اخبار کی بنا ثبوت پیش کی گئی رپورٹ سے اتفاق کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ رپورٹ سے سائبر کرائم میں امارات کا ہاتھ ہونے کی تصدیق ہو گئی۔ واضح رہے کہ ابوظہبی اس نوعیت کی کسی بھی کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کر چکا ہے۔