.

یمن کے حل کا آغاز الحدیدہ کے منصوبے سے ہوتا ہے : ولد الشیخ احمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد الشیخ احمد نے جمعے کے روز انکشاف کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور یمنی باغیوں کے نمائندوں کے درمیان جلد ہی جنیوا یا خطے میں کسی مقام پر ملاقات ہو گی۔

اسماعیل ولد الشیخ نے العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ آئندہ ملاقات میں الحدیدہ کی بندرگاہ اور صنعاء کے ہوائی اڈے سے متعلق منصوبے کی تفصیلات زیر بحث آئیں گی۔ انہوں نے اس بات زور دیا کہ یمن میں ایک جامع حل کا آغاز الحدیدہ کے منصوبے سے ہو گا جس کے تحت انسانی امداد اور غذائی اشیاء داخل ہو سکیں گی۔

اسماعیل ولد الشیخ کے مطابق اقوام متحدہ کا طریقہ کار اس امر کا تقاضہ کرتا ہے کہ یمن روانگی سے قبل جیبوتی میں بحری جہازوں کا معائنہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جہازوں کی تفتیش کرنے والی تنظیم کی جانب سے افرادی قوت اور مالی وسائل کی کمی کی شکایت کی ہے۔

مذکورہ منصوبے کی کامیابی کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں ولد الشیخ کا کہنا تھا کہ "حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت نے تو دروازے بند کر دیے ہیں مگر ہم ان کے ساتھ کوشش کرتے رہیں گے"۔

انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ اقوام متحدہ کے منصوبوں کے حوالے سے حوثیوں اور علی صالح کے درمیان موافقت میں دشواری کا سامنا ہے۔ ولد الشیخ نے حوثی اور صالح کے درمیان اختلافات بڑھنے کے حوالے سے اپنے اندیشے کا اظہار کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے منصوبے پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ صنعاء ہوائی اڈے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ طیاروں کی تفتیش کے سلسلے میں طریقہ کار متعین کرنے کی تجاویز ہیں۔

اسماعیل ولد الشیخ احمد کے مطابق مشکلات کے باوجود وہ اپنے حالیہ خلیجی دورے کے نتائج کے حوالے سے پُر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "حوثی اور صالح سے تعلقات رکھنے والے بعض ممالک کے سفیروں نے اقوام متحدہ کے منصوبے میں دل چسپی کا اظہار کیا ہے۔

ولد الشیخ نے بتایا کہ "میں نے تین مرتبہ ایران کا دورہ کیا اور آخری مرتبہ حل کے لیے سپورٹ حاصل ہوئی"۔ ان کے مطابق رواں برس ایرانی حجاج کی واپسی اور مقتدی الصدر کا سعودی عرب کا دورہ.. ان دونوں امور کے خطّے میں اہم اثرات ہوں گے۔

یمن کے شہر تعز کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ تعز میں انسانی بحران ایسی الم ناک صورت اختیار کر چکا ہے کہ عقل اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ولد الشیخ کے مطابق ادارں کو یمن کی آئینی حکومت کے زیر کنٹرول لا کر ہی کوئی حل ممکن ہو گا۔