.

عراقی فورسز کا تلعفر پر مکمل کنٹرول ،الحشد الشعبی کی شہر میں لوٹ مار

شیعہ ملیشیا کے جنگجو نجی اور سرکاری املاک کی لوٹ مار اور مکانوں کو نذرآتش کررہے ہیں: فوجی افسر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فورسز نے شمالی شہر تلعفر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ داعش کے خلاف کارروائی میں شامل شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی فورسز نے آزاد کرائے گئے علاقوں میں لوٹ مار شروع کردی ہے اور اس کے جنگجو نجی اور سرکاری املاک کو نذر آتش بھی کررہے ہیں۔

عراقی فوج کے ایک افسر نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ سرکاری فورسز تلعفر سے بچے کھچے داعش کے جنگجوؤں کا صفایا کررہی ہیں جبکہ حشد الشعبی کے مسلح افراد عام شر یوں کی املاک کی لوٹ مار میں لگے ہوئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ فوج نے انھیں لوٹ کھسوٹ سے روکنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ ناکام رہی ہے۔

اس فوجی افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا ہے کہ لو ٹ مار کرنے والے ترکمن قبائلی ہیں اور یہ حسین الحشد الشعبی میں شا مل ہیں۔اس افسر کے بہ قول یہ جنگجو تلعفر کے مشرقی علاقے المحلبیہ میں لوگوں کے گھروں پر انتقامی حملے کررہے ہیں اور انھیں لوٹ مار کے بعد دھماکوں سے تباہ کررہے ہیں۔

تلعفر کے ایک مقامی افسر نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ الحشد الشعبی کے ارکان شہر میں نجی کے علاوہ سرکاری املاک میں بھی لوٹ مار کررہے ہیں اور وہاں ایک طرح سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔

دریں اثناء عراقی فورسز نے اطلاع دی ہے کہ انھوں نے داعش کے خلاف آٹھ روز کی لڑائی کے بعد تلعفر شہر کے تمام انتیس علاقوں اور محلوں پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

قبل ازیں عراقی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل یحییٰ رسول نے شہر سے گیارہ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹے علاقے العیاضیہ میں داعش کے جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی کی اطلاع دی تھی۔اس علاقے میں تلعفر شہر سے راہ فرار اختیار کر کے آنے والے داعش کے جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی تھی۔اتحادی طیاروں نے ان کے ٹھکانوں پر سوموار کو تباہ کن بمباری کی ہے۔اس کے بعد عراقی فورسز نے العیاضیہ میں بھی داعش کے جنگجوؤں کو شکست دے دی ہے۔