.

امیرِ قطر خلیج تعاون کونسل سے نکلنا چاہتے ہیں : ایرانی سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں ایران کے سابق سفیر عبداللہ سہرابی نے انکشاف کیا ہے کہ امیرِ قطر خلیج تعاون کونسل سے نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ کا تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلانا ناگواری کے ساتھ تھا اور قطر نے 8 برسوں سے تہران کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایرانی اخبار "جام جم" کو دیے گئے انٹرویو میں سہرابی کا کہنا تھا کہ "ہمیں قطر سے جو معلومات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق امیرِ قطر نے شام کے بحران کے آغاز کے وقت سے ہی خلیج تعاون کونسل سے نکل جانے کا ارادہ کر لیا تھا تاہم اپنے مشیران کی نصیحت کی بنیاد پر وہ اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو گئے"۔

ایرانی سفارت کار کے انکشاف کے مطابق ایران کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے قطر کی خواہش 8 برس پرانی ہے جب خلیج تعاون کونسل کی صدارت دوحہ کے حوالے کی گئی۔ اس موقع پر قطر نے خلیجیوں کی مخالفت کے باوجود سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو خلیج سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

تہران میں قطر کے سفیر علی بن احمد علی السلیطی نے ہفتے کے روز سے سرکاری طور پر اپنا کام شروع کر دیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے قطری سفیر کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں وہ اپنے دستاویزات ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو پیش کر رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا نے اس پیش رفت کو خطے میں عرب محور پر "ایران کی ایک نئی فتح" گردانا ہے۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے تصدیق کی تھی کہ قطری سفیر کی ایرانی دارالحکومت واپسی کی درخواست خود دوحہ نے کی۔ یہ درخواست منگل کی شام دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے دوران کی گئی۔

خلیجی بحران کی پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ امیرِ قطر کے بیان میں جو کچھ بھی کہا گیا تھا وہ سب درست ہے (اگرچہ دوحہ نے اپنی خبر رساں ایجنسی کے ہیک ہوجانے کے دعوے کے ساتھ اس کی تردید کی تھی)۔