.

منحرف رہ نما کے خلاف حوثیوں کا قتل کا فتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حوثی ملیشیا کے ایک اہم رہ نما نے اتوار کے روز جاری ایک فتوے میں منحرف رہ نما علی البخیتی کے خون کو جائز قرار دیا ہے۔ البخیتی قومی مکالمہ کانفرنس میں حوثیوں کے سرکاری ترجمان تھے۔

حوثی رہ نما عبدالعظیم الحوثی عُرف "ابو زنجبيل الحوثی" نے البخیتی کو "زمین میں فساد پھیلانے والا" شمار کرتے ہوئے ان کے قتل کا فتوی دیا ہے۔ مذکورہ حوثی رہ نما نے البخیتی کے قتل سے متعلق اپنے فتوے کا جواز ثابت کرنے کے لیے قرآن کریم کی آیات کا اُن کے سیاق سے ہٹ کر حوالہ دیا۔

اس فتوے پر تبصرہ کرتے ہوئے حوثیوں سے منحرف رہ نما علی البخیتی نے کہا کہ اُن کے جس خون کو حوثیوں نے جائز قرار دیا ہے وہ یمن کے کسی بھی شہری سے زیادہ معزز نہیں۔

البخیتی نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں حوثیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "تم لوگوں نے پوری قوم کا خون بہانا جائز کر دیا ہے ، تم لوگوں نے ریاست اور اس کے اداروں کا تقدس پامال کیا ، تم لوگوں نے گھروں اور تعلیمی اداروں کو دھماکوں سے تباہ کیا اور اپنی فرقہ واریت سے ہر جگہ جنگ اور فتنہ بھڑکا دیا ہے"۔ البخیتی نے مزید کہا کہ "تم لوگوں نے قیدیوں کو اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ وہ موت کی نیند سو گئے ، تم لوگوں نے تعز کا محاصرہ کر کے کھانے پینے کی اشیاء اور دواؤں پر بھی قدغن لگا دی ، تم لوگ اس کے محلّوں پر گولہ باری کر کے درجنوں شہریوں کو ہلاک کر دیتے ہو اور تم لوگوں نے خواتین کو بھی مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔ یاد رکھو علی البخیتی کا خون اور اس کی زندگی کسی بھی یمنی شہری سے زیادہ معزز نہیں"۔

علی البخیتی اس وقت اردن میں مقیم ہیں۔ انہوں نے حوثیوں کے اُس فرقہ وارانہ منصوبے کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کو ایران کا آشیرباد حاصل ہے۔ پوشیدہ امور سے مطلع سابق رہ نما ہونے کی حیثیت سے علی البخیتی نے باغی جماعت کے اندر چلنے والی کہانی کا پول کھول دیا جس پر حوثی ان پر غضب ناک ہو گئے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل حوثیوں کی جانب سے رمضان المبارک میں مزاحیہ اداکار محمد الاضرعی کے خلاف بھی اسی قسم کا فتوی جاری کیا گیا تھا۔ الاضرعی نے ایک یمنی سیٹلائٹ چینل کی اسکرین پر پیش کیے جانے والے پروگرام "غاغۃ" میں حوثیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان کے منصوبے اور ایران کے ساتھ ان کے تعلق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔