.

اسرائیل کے سخت گیر رکن پارلیمان اور ربی یہودا گلک مسجد الاقصیٰ میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان اور ربی یہودا گلک نے منگل کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد الاقصیٰ میں داخل ہو کر وہاں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہودا کی مسجد الاقصیٰ میں آمد کے موقع پر کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔انھیں دیکھ کر بعض مسلمان نمازوں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور یہودا نے ان کی طرف دیکھ کر ہاتھ بلند کیے۔

واضح رہے کہ یہودیوں کو مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن منگل کے روز انھیں صرف ایک دن کے لیے مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی اور اس کے بعد ربی یہودا گلک از خود ہی ننگے پاؤں مسجد میں آئے تھے اور انھوں نے وہاں عبادت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی بیوی کے لیے دعا کی ہے جو اس وقت کومے میں ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے اپنے خاندان اور اسرائیل کے لیے دعا کی ہے۔مسجد الاقصیٰ کے انتظام وانصرام کے ذمے دار اسلامی وقف نے یہ اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعت جیوش ہوم کے ایک رکن پارلیمان شولی معلم رفاعیلی بھی منگل کی صبح مسجد میں آئے تھے۔

پابندی کے ضابطے کے تحت اسرائیلی پارلیمان کے یہودی ارکان صبح کے اوقات میں مسجد میں آسکتے ہیں جبکہ مسلم ارکان کو بعد از دوپہر مسجد میں آنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا اس طرح مسجد میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

فلسطینیوں نے اسرائیل کے دائیں بازو کے سیاست دانوں کو مسجد میں داخلے کی اجازت دینے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح اشتعال انگیزی کو ہوا دی جارہی ہے۔اسرائیلی پارلیمان کے مشترکہ اتحاد سے تعلق رکھنے والے عرب رکن مسعود غنیم کا کہنا ہے کہ ان سیاست دانوں کو اجازت دینے کا مقصد عربوں اور مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنا اور صورت حال کو مزید کشیدہ بنانا ہے۔

یادرہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اکتوبر 2015ء میں پولیس کو ہدایت کی تھی کہ ارکان پارلیمان کو مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔اس کا مقصد صورت حال کو کشیدہ ہونے سے روکنا تھا کیونکہ فلسطینی اسرائیل کے اس طرح کے اقدامات کو مسجد پر کنٹرول مضبوط بنانے کا حربہ قرار دیتے ہیں۔

نیتن یاہو متعدد مرتبہ خود یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس مقدس مقام سے متعلق موجودہ جوں کی توں صورت حال کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔انھوں نے جولائی میں یہود کے وہاں داخلے پر عاید پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وہاں تشدد کے واقعات کے بعد اس کو موخر کردیا تھا۔

یہودا گلک امریکا میں پیدا ہوئے تھے۔وہ ماضی میں بھی مسجد الاقصیٰ میں یہود کو داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے مہم چلا چکے ہیں۔ان کی اس مہم کے مخالف ایک فلسطینی نے 2014ء میں ان پر قاتلانہ حملہ کردیا تھا، لیکن وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔