.

حیدر العبادی نے حزب اللہ کی داعش کے ساتھ ڈیل مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے داعش کے ساتھ انخلا کے سمجھوتے کو مسترد کردیا ہے۔اس ڈیل کے تحت لبنان اور شام کے سرحدی علاقے سے داعش کے عناصر کو شام اور عراق کے درمیان سرحدی علاقے کے نزدیک منتقل کیا جار ہا ہے۔

حزب اللہ پر یہ الزام عاید کیا جارہا ہے کہ اس نے لبنانی فوج کی قیمت پر داعش سے ایسا سمجھوتا کیا ہے۔داعش کے عناصر کو سوموار اور منگل کے روز بسوں کے ذریعے جرود عرسال کے علاقے سے شام میں ان کے مضبوط گڑھ دیر الزور منتقل کیا گیا ہے۔شامی فوج نے بھی حزب اللہ کے داعش کے ساتھ اس طرح کے الگ سے سمجھوتے کی حمایت کی ہے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ پہلے داعش اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ محاذ کے ساتھ جنگ بندی کے سمجھوتوں کی مخالفت کرتی رہی ہے لیکن اب وہ خو د ہی ان سخت گیر سنی جنگجو گروپوں سے ایسے سمجھوتے کررہی ہے اور انھیں خاندانوں سمیت دیر الزور میں منتقل ہونے کے لیے محفوظ راستہ بھی دے رہی ہے۔

قبل ازیں حزب اللہ نے النصرہ محاذ کے ساتھ ایسی ہی ڈیل کی تھی اور اس کے تحت ا س نے النصرۃ کے قبضے میں اپنے جنگجو ؤں کو رہا کرا لیا تھا اور بدلے میں لبنانی جیل میں قید النصرہ کے جنگجوؤں کو رہا کردیا تھا۔اب لبنانی فوج شام کے ساتھ سرحدی علاقے میں داعش کی سرکوبی کے لیے گذشتہ ایک ہفتے سے کارروائی کررہی تھی لیکن اس کے مکمل فتح یاب ہونے سے قبل ہی حزب اللہ نے جنگ بندی کا سمجھوتا کر لیا ہے اور یوں لبنانی فوج اپنے ہاتھ آئی یقینی فتح سے محروم رہ گئی ہے جبکہ داعش نے اس کے جن نو فوجیوں کو 2014ء سے یرغمال بنا رکھا تھا،ان کے بارےمیں بھی کچھ پتا نہیں چل سکا ہے کہ وہ کہا ں ہیں؟ داعش نے انھیں ہلاک کردیا ہے یا انھیں غائب کردیا ہے۔