.

حزب اللہ ۔ داعش ڈیل، حسن نصراللہ کی آپ اپنی مذمت!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اکتوبر سنہ 2016ء کو لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کےسربراہ حسن نصراللہ نے موصل شہر کو باغیوں سے چھڑانے کی جنگ میں الحشد الشعبی ملیشیا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے داعشی جنگجوؤں کو موصل سے نکال کر شام میں داخل کرنے کے امریکی منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مگر آج خود حسن نصراللہ اور ان کی جماعت داعش کے ساتھ معاہدوں میں سرگرم ہے۔

ایک سال قبل حسن نصراللہ نے ایک تقریر میں عراقی شہریوں پر زور دیا کہ وہ امریکی فریب میں نہ آئیں کیونکہ امریکا موصل میں ان کی داعش کے خلاف فتح کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ عراقی قوم کی حقیقی فتح داعش کو کاری ضرب لگانا ہے۔ یہ کاری ضرب داعش کے ایک ایک جنگجو کو قتل کرنا یا انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالنا اور ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلانے کے سوا اور کسی طریقے سے نہیں لگائی جاسکتی۔ داعشی جنگجوؤں کو شام میں فرار کی اجازت کسی صورت میں نہیں ملنی چاہیے۔ داعشی دہشت گردوں کا شام میں وجود عراق سے زیادہ خطرناک ہوگا۔

جب حسن نصراللہ امریکی پلان کو ’فریب‘ اور امریکا کی چال قرار دے رہے تھے تو گویا اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں لبنان میں داعش کے ساتھ ڈیل کی۔ داعشی جنگجو کو لبنان سے شام میں واپس جانے کے لیے راستہ دیا۔ حالانکہ داعش جنگجو سنہ 2014ء کے دوران شام اور لبنان کی سرحد پر کئی لبنانی فوجیوں کو اغواء کےبعد ان میں سے آٹھ کو قتل کرچکے تھے۔

حزب اللہ کی جانب سے داعش کے ساتھ معاہدے کو عراقی سیاسی قیادت نے بھی حسن نصراللہ کا دھوکہ قرار دیا۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اسے عراق کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب عراق میں داعش کو کاری ضرب لگائی گئی ہے لبنان میں حزب اللہ کی طرف سے اس کے ساتھ معاہدہ تنظیم کے اکھڑتے پاؤں مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سوموار اور منگل کے روز اسد رجیم اور حزب اللہ کی جانب سے داعش کے ساتھ طے پائے معاہدے کےبعد داعشی جنگجوؤں کو ایئرکنڈیشن بسوں میں جاتے دیکھا گیا۔ داعشی جنگجو انتہائی خوش دکھائی دے رہے تھے اور انہیں جیلوں میں ڈالنے والے ان کا تماشا دیکھ رہے تھے۔