.

داعش نے ڈیل کے تحت ایرانی فوجی کی لاش حزب اللہ کے حوالے کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ ڈیل کے تحت حال ہی میں پاسداران انقلاب ایران کے پکڑے گئے ایک فوجی کی لاش حوالے کردی ہے۔

حزب اللہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے داعش سے ایرانی فوجی محسن حجاجی کی لاش وصول کر لی ہے۔اس کا اب ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا اور اس کے بعد اس کو ایران بھیجا جائے گا۔

حزب اللہ اور داعش کے درمیان گذشتہ اتوار کو طے شدہ جنگ بندی کی ڈیل کے تحت لبنان اور شام کے سرحدی علاقے جرود عرسال سے داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو سوموار اور منگل کے روز بسوں کے ذریعے شام کے مشرقی شہر دیر الزور کی جانب روانہ کیا گیا تھا۔اس ڈیل کے تحت داعش نے 2014ء میں پکڑے گئے نو لبنانی فوجیوں کی تدفین کی جگہ کے بارے میں بھی بتانا تھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ داعش نے ان یرغمال فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ داعش کے قافلے میں شامل بعض ایمبولینس گاڑیاں شام میں اس جنگجو گروپ کے زیر قبضہ علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور داعش نے ان کے وہاں پہنچنے کے بعد ہی ایرانی فوجی کی لاش حوالے کی ہے۔

داعش نے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مسلح افراد کو ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے زیر انتظام ایک چوکی پر قبضہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔محسن حجاجی کو اس ویڈیو میں زندہ پکڑتے ہوئے اور پھر ایک گاڑی میں لے جاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بعد میں اس کی سربریدہ لاش دکھائی گئی تھی۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ڈیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسانی المیے سے بچنے اور نو لبنانی فوجیوں کی باقیات کی بازیابی کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس میں داعش کے زیر حراست حزب اللہ کے ایک جنگجو کی رہائی اور دو مقتول ارکان اور حجاجی کی لاشوں کی واپسی بھی شامل ہونی چاہیے تھی۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حزب اللہ داعش کے قافلے کو ان کے زیر قبضہ علاقوں تک محفوظ راستے سے لے جانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ اس کو امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملے سے بچایا جاسکے۔

امریکا نے قافلے کی شکل میں آنے والے داعش کے ان کم سے کم تین سو جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کا راستہ روکنے کے لیے بدھ کو ایک شاہراہ پر فضائی بمباری کی تھی لیکن امریکی طیارے نے داعش یا ان کے ساتھ آنے والے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔

امریکی اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے کہا ہے کہ وہ داعش کے خلاف میں شامل بسوں کی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔تاہم انھوں نے اس امر کی تصدیق نہیں کی تھی کہ ایمبولینس گاڑیاں داعش کے زیر قبضہ علاقے میں داخل ہوگئی ہیں۔

انھوں نے جمعرات کو ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ حزب اللہ سے متنازع سمجھوتے کے تحت اس طرح منتقل کیے جانے والے داعش کے جنگجوؤں کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ان کی نقل وحرکت کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جارہی ہے اور اتحاد اس طرح آنے والے داعش کے جنگجوؤں پر حملوں کے امکان کو رد نہیں کرے گا‘‘۔

کرنل ڈیلن کا کہنا تھا کہ ’’ہم لبنانی حزب اللہ اور داعش یا اسد حکومت کے درمیان کسی سمجھوتے میں فریق نہیں ہیں۔اس لیے داعش پر کوئی بھی حملہ مسلح تنازع کے قانون کے مطابق کیا جائے گا اور اگر ہم شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان کوئی فرق کرسکے تو پھر یہ حملہ کریں گے‘‘۔

داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی بریٹ میکگرک نے اس سمجھوتے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ دہشت گردوں کو تو میدان جنگ میں ہلاک کیا جانا چاہیے، نہ کہ انھیں بسوں میں سوار کرکے اور پورے شام میں پھر ا کر عراق کی سرحد پر منتقل کردیا جائےاور اس میں عراق کی رضا مند بھی شامل نہیں ہے‘‘۔