.

عراق : تلعفر اور مضافات کو داعش سے آزاد کرانے کا ایک اور اعلان

پورا صوبہ نینویٰ عراقی فورسز کے کنٹرول میں آ گیا: وزیراعظم حیدر العبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی حکومت نے شمالی شہر تلعفر اور اس کے نواحی علاقوں کو داعش کے قبضے سے مکمل طور پرآزاد کرانے کا ایک اور اعلان کیا ہے۔اس ہفتے میں عراقی فوج یا حکومت کی جانب سے یہ اس قسم کا چوتھا اعلان ہے۔

جمعرات کو تلعفر اور مضافات کی فتح کی نوید عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے دفتر نے ایک بیان میں دی ہے اور کہا ہے :’’ داعش کے خلاف ہماری کامل فتح کی خوشی حاصل ہو گئی ہے اور اب صوبہ نینویٰ مکمل طور پر ہماری فورسز کے ہاتھ میں ہے‘‘۔

دو روز پہلے عراقی فورسز نے یہ اطلاع دی ہے کہ انھوں نے داعش کے خلاف آٹھ روز کی لڑائی کے بعد تلعفر شہر کے تمام انتیس علاقوں اور محلوں پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔شہر سے گیارہ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹے قصبے العیاضیہ میں داعش کے جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان خونریز لڑائی کی اطلاعات سامنے آئی تھی ۔

العیاضیہ میں تلعفر شہر سے راہ فرار اختیار کر کے آنے والے داعش کے جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی تھی۔اتحادی طیاروں نے ان کے ٹھکانوں پر سوموار کو تباہ کن بمباری کی تھی اور اس کے بعد عراقی فورسز نے العیاضیہ میں بھی داعش کے جنگجوؤں کو شکست دے دی ہے۔

داعش نے اس شہر پر 2014ء سے قبضہ کررکھا تھا۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے 20 اگست کو تلعفر پر دوبارہ کنٹرول کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔انھیں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد حاصل رہی ہے اور اتحادی طیارے اس شہر میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہے ہیں جس سے زمینی فورسز کو تیز رفتاری سے پیش قدمی میں مدد ملی ہے۔

اس سے پہلے عراقی فورسز نے جولائی میں داعش کے مضبوط گڑھ موصل شہر پرکئی ماہ کی لڑائی کے بعد دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا ۔اب تلعفر شہر پر قبضے کے بعد داعش کی رہی سہی قوت بھی دم توڑ گئی ہے۔یہ موصل سے ستر کلومیٹر مغرب میں شام کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے ۔

اب داعش کا عراق میں بغداد سے تین سو کلومیٹر شمال میں واقع قصبے حوائجہ پر قبضہ باقی رہ گیا ہے اور توقع ہے کہ عراقی فورسز اب اس قصبے میں داعش کے خلاف کارروائی شروع کریں گی۔

عراقی فورسز نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں داعش کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں ۔تاہم سخت گیر جنگجو مغربی صوبے الانبار میں ا بھی تک موجود ہیں اور ان کا شام کی سرحد کے ساتھ واقع بیشتر علاقوں پر کنٹرول ہے۔ وہ وہیں سے شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں کی جانب جاتے آتے رہتے ہیں۔