.

داعش اور حزب اللہ کے درمیان ڈیل کا بغداد کو علم تھا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ لبنان اور شام کے سرحدی علاقے البو کمال میں داعش کے جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے کی ڈیل کے بارے میں عراقی حکومت کو پیشگی علم تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق داعش اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور داعشی جنگجوؤں کو راستہ دینے کی ڈیل حزب اللہ کا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ اس فیصلے کو در پردہ عراقی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ عراق کی مرکزی حکومت کو اس معاہدے کا پیشگی علم تھا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں لبنان اور شام کے علاقوں میں داعش اور حزب اللہ کے درمیان طے پائی ڈیل پر ذرائع ابلاغ نے عراقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد عراقی حکومت دفاعی پوزیشن میں آ گئی تھی اور کہا تھا کہ اسے حزب اللہ اور داعش کے درمیان ڈیل کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈیل پر نظر رکھنے والے حکام جانتے ہیں کہ حزب اللہ تنہا اس طرح کے مذاکرات یا فیصلے نہیں کرتی۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ اور شامی فوج عراق کی سرحد کے قریب دیر الزور کے محاذوں پر داعش کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار ہو گی۔