.

داعش کی دراندازی روکنے کے لیے عراقی سرحد محفوظ بنائی جائے: الصدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں شیعہ رہ نما مقتدی الصدر نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنائے تا کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور داعش تنظیم کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے کے بالواسطہ اثر سے بچا جا سکے۔

مقتدی الصدر نے باور کرایا کہ وہ اور ان کی جماعت کا عسکری ونگ السلام بریگیڈز سرحد پر کنٹرول کے واسطے بغداد میں مرکزی حکومت اور انبار صوبے میں مقامی حکومت کی معاونت کے لیے تیار ہے۔

پارلیمنٹ میں الصدری گروپ کے نمائندہ بلاک سے تعلق رکھنے والے رکن عواد العوادی یہ کہہ چکے ہیں کہ کوئی بھی عراقی شہری عوام کے خون پر سودے بازی ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ اگر شامی حکومت کو اپنے مفاد کے لیے عراقی عوام کا خون بہانا تھا تو پھر اسے چاہیے کہ جہنّم میں جائے۔ الحدث نیوز چینل کے ساتھ ایک سابقہ انٹرویو میں العوادی نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حزب اللہ اور داعش کے درمیان سمجھوتے کے حوالے سے زیادہ مضبوط موقف اختیار کرے۔

ادھر نینوی صوبے میں عرب قبائل کے ترجمان شیخ مزاحم الحویت بھی الحدث نیوز چینل کو دیے گئے ایک سابقہ انٹرویو میں باور کرا چکے ہیں کہ قبائل سختی کے ساتھ حزب اللہ اور داعش کے درمیان ڈیل کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش تنظیم کے جنگجوؤں کی عراقی سرحد کے مقابل علاقوں میں منتقلی عراق کے سنی صوبوں اور سنی شہریوں کے لیے نئے خطرے کا منظرنامہ ہے۔ الحویت کے مطابق داعش اور ایران نواز ملیشیاؤں کے درمیان گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد سے مطالبہ کیا کہ وہ عراقی حدود کی جانب بڑھنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی قافلے کو بم باری کا نشانہ بنائے۔

اس سے قبل عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی بھی شامی حکومت کی سرپرستی میں حزب اللہ اور داعش کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کر چکے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت داعش کے جنگجوؤں کو لبنان اور شام کے درمیان سرحدی علاقے سے عراق اور شام کے درمیان سرحدی علاقے منتقل کیا جانا ہے۔

یاد رہے کہ شامی اور عراقی کی مشترکہ سرحد شمال سے جنوب تک چھ سو کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے۔ اس کا زیادہ تر حصلہ غیر گنجان اور بین الاقوامی راستوں سے خالی ہے۔ لہذا سرحدی اور سرکاری چیک پوائنٹس پر طویل عرصے تک داعش کے ساتھ اس سرحد کو کنٹرول کرنا ایک دشوار امر ہے۔

شامی صدر بشار الاسد کی ہمنوا ملیشیاؤں کے اعلان کے مطابق حزب اللہ کے ساتھ معاہدے پر عمل درامد کرتے ہوئے داعش تنظیم کا ایک قافلہ شام کے شہر دیر الزور میں داخل ہو گا۔ مذکورہ ملیشیاؤں نے مزید بتایا کہ شام کے صحراء میں داعش کے زخمیوں اور ایرانی لاشوں کے تبادلے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔