.

جنگ بندی کے نشان زد علاقے شام کی تقسیم کا آغاز ہیں : منذر ماخوس

آستانہ مذاکرات کا عمل دو دھاری تلوار ہے،روس ،ایران کے بیانات نہیں عملی موقف دیکھا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزبِ اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان منذر ماخوس نے خبردار کیا ہے کہ آستانہ مذاکرات کا عمل دو دھاری تلوار ہے اور ان مذاکرات میں جنگ بندی کے جن علاقوں سے اتفاق کیا گیا ہے،وہ ملک کی تقسیم کا آغاز ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے العربیہ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان مذاکرات کو آغاز ہوئے ایک ماہ اور آٹھ دن ہوچکے ہیں لیکن ان میں شریک فریقوں نے اب تک شام میں انتقال اقتدار کے عمل کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس اور ایران دو بنیادی کھلاڑی ہیں اور وہ اب تک اسد رجیم کی بھرپور حمایت کررہے ہیں۔

منذر ماخوس نے قبل ازیں العربیہ کے سسٹر چینل الحدث سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ روس اور ایران کے میڈیا کو جاری کردہ بیانات پر انحصار نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ شام میں سیاسی انتقال اقتدار کے حوالے سے ان کے عملی موقف کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔