.

حزب اللہ اور شامی فوج داعش کے قافلے کے لیے نئے روٹ کی تلاش میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور شامی فوج مشرقی صوبے دیر الزور کی جانب رواں دواں داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں پر مشتمل قافلے کے لیے ایک نئے روٹ کی تلاش میں ہیں۔

یہ قافلہ سترہ بسوں پر مشتمل ہے اور ان بسوں پر داعش کے قریباً تین سو نیم مسلح جنگجواور تین سو شہری سوار ہیں۔یہ گذشتہ منگل سے شام کے مشرق میں واقع صحرائی علاقے میں پھنس کر رہ گیا ہے کیونکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے اس کوروکنے کے لیے شاہراہوں اور پلوں کو بمباری کرکے تباہ کررہے ہیں۔

شامی فوج کے اتحادی ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ ’’اب دوسری مرتبہ اس قافلے کا راستہ تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا ہے‘‘۔

اس قافلے میں سفر کرنے والے داعش کے جنگجوؤں نے شام اور لبنان کے درمیان واقع علاقے کو سوموار کے روز جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت خالی کردیا تھا اور وہاں سے نکل کر داعش کے مضبوط گڑھ دیر الزور کی جانب جانے سے اتفاق کیا تھا۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد اور عراق نے اس سمجھوتے کی سخت مخالفت کی ہے کیونکہ داعش کے بے دخل ہونے والے جنگجوؤں کو شام کے سرحدی قصبے البوکمال میں آباد کیا جائے گا۔ یہ قصبہ عراق کے بالکل نزدیک واقع ہے اور عراقی حکام اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ یہ جنگجو عراقی علاقے میں داخل ہوسکتے ہیں۔

دریں اثنا ء برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے یہ اطلاع دی ہے کہ داعش کے دسیوں جنگجو قافلے کو چھوڑ کر از خود ہی صوبہ دیر الزور کی جانب چلے گئے ہیں۔

تام اسد نواز فوجی اتحاد کے ایک کمانڈر نے ان خبری اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ قریباً ایک سو جنگجو پہلے ہی داعش کے زیر قبضہ علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد یہ کہہ چکا ہے کہ اس قافلے کی نگرانی جاری رکھی جائے گی اور اس کو کسی بھی قیمت پر داعش کے زیر قبضہ علاقے میں داخل ہونے سے روکا جائے گا لیکن اس کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا جائے گا کیونکہ اس میں شہری بھی سفر کررہے ہیں۔اس نے روس سے شامی حکومت کو یہ اطلاع دینے کے لیے کہہ دیا ہے کہ اس قافلے کو مشرق میں عراق کی سرحد کی جانب نہیں جانے دیا جائے گا۔

حزب اللہ اور شامی حکومت نے جمعرات کو اس قافلے کا رُخ جنوب مشرق میں واقع صحرائی علاقے ہمیمہ سے مزید شمال کی جانب موڑ دیا تھا لیکن اتحادی طیاروں نے پھر بھی اس قافلے کے نزدیک بمباری کی تھی اور جمعہ کو بھی قافلے کے آس پاس فضائی حملے کیے تھے ۔اس پر داعش کے جنگجوؤں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انھیں دیر الزور کی حدود میں داخل ہونے کے بعد حملے کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔