.

داعش کے قافلے کو سرحد کا رخ نہیں کرنے دیں گے: بین الاقوامی اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے خلاف برسرِ پیکار بین الاقوامی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم کے مسلح عناصر اور ان کے اہل خانہ پر مشتمل قافلہ عراقی سرحد کی جانب سے لوٹنے کے بعد ابھی تک شامی صحراء میں ہے۔

بین الاقوامی اتحاد نے اپنے ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ شامی حکومت کی سرپرستی میں حزب اللہ اور داعش کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے سے اس کو کوئی سروکار نہیں۔

اتحاد کے ترجمان کرنل ریون ڈیلن نے بتایا کہ داعش کے قافلے میں تنظیم کے تقریبا 300 مسلح جنگجو اور ان کے اہل خانہ کے 300 افراد شامل ہیں۔ ڈیلن کے مطابق ان کے اتحاد نے داعش تنظیم کے خلاف فضائی حملے کیے تا کہ اس قافلے کو شام عراق سرحد پر تنظیم کے زیر قبضہ علاقے تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ عسکری اتحاد نے مسلسل طور قافلے پر نظر رکھی ہوئی ہے۔

اس سے قبل بین الاقوامی اتحاد نے روس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شامی حکومت کو اس بات سے آگاہ کر دے کہ اتحاد کسی بھی طور پر 17 بسوں پر مشتمل داعش کے قافلے کو مشرق میں عراق کی جانب سفر جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ساتھ ہی یہ باور کرایا گیا تھا کہ اگر تنظیم کے ارکان نے عراق شام سرحد کی جانب حرکت میں آنے کی کوشش کی تو بین الاقوامی اتحاد انہیں کاری ضرب کا نشانہ بنائے گا۔