.

الحویجہ کا معرکہ سر پر، بغداد اور کردستان کے بیچ اندیشے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبے کرکوک میں الحویجہ شہر کو داعش تنظیم کے مسلح عناصر سے آزاد کرانے کی تیاری کے سلسلے میں عراقی فوج کے یونٹ شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ کارروائی بغداد اور اربیل حکومتوں کے درمیان الحویجہ کے انجام کے حوالے سے جاری سیاسی اختلاف کے بیچ عمل میں لائی جا رہی ہے۔

عراقی فوجی ٹکڑیوں نے الحویجہ ضلع کے اطراف پہنچنا شروع کر دیا جو شمالی عراق میں داعش تنظیم کا آخری گڑھ شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے تلعفر ضلعے میں فوجی آپریشن کے اختتام اور وہاں سے تنظیم کے جنگجوؤں کو نکال دینے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

اس سلسلے میں تلعفر آپریشن کے کمانڈر عبدالامیر رشید یار اللہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ عراقی فوج وار وفاقی پولیس کے یونٹ الحویجہ ضلعے کو آزاد کرانے کے لیے الحویجہ شہر کے جنوب میں القیارہ کے علاقے تک پہنچ گئے ہیں۔

بغداد اور کردستان کے اندیشے

عراقی فوج کے دیگر ذرئع نے بتایا ہے کہ الحویجہ ضلعے میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد کا اندازہ 2000 مسلح افراد کے قریب لگایا گیا ہے اور ان کے علاوہ لاکھوں شہری بھی موجود ہیں۔

داعش تنظیم نے 2014 کے موسم گرما میں الحویجہ ضلعے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہاں زیادہ تر سنی عرب اکثریتی علاقے واقع ہیں۔

عراقی افواج کی مذکورہ تیاریوں کے ساتھ دوسری جانب الحویجہ کے شمال میں پیشمرگہ فورسز بھی اسی نوعیت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس دوران بغداد اور کردستان ریجن کے درمیان جاری اختلافات کے سائے میں الحویجہ کے مستقبل کے حوالے سے تنازع کھڑا ہو چکا ہے۔

مبصرین کے مطابق بغداد حکومت کو اندیشہ ہے کہ اگر الحویجہ کو داعش تنظیم سے واپس لینے کے آپریشن میں پیشمرگہ فورسز بھی شریک ہوئیں تو وہ علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کریں گی۔ ادھر اربیل حکومت ریجن کی سرحد پر عراقی فوج کا ایک اڈہ تعمیر کیے جانے کے امکان سے خائف ہے۔