.

داعش کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں، لڑائی جاری رہے گی: عراقی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے واضح کیا ہے کہ تلعفر میں دہشت گردوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ تلعفر آپریشن کے کمانڈر عبدالامیر رشید یار نے ہفتے کی شام ایک پریس کانفرنس میں زمینی صورت حال اور عراقی فوج کی پیش قدمی پر روشنی ڈالی۔

رشید یار کے مطابق تمام عراقی فورسز کو یہ ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "کسی بھی دہشت گرد نے خود کو حوالے نہیں کیا اور دہشت گردوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ عراقی فورسز کی لغت میں دہشت گردوں کے ساتھ معاہدے کا لفظ موجود نہیں۔ ہم الحویجہ اور شرقاط کے بائیں جانب ساحل کے علاوہ انبار صوبے مغربی علاقوں میں بھی دشمن کے ساتھ لڑنے جائیں گے۔ داعش کے عناصر میں بہت سے مارے گئے جب کہ ایسے بھی ہیں جو ہمارے جنگجوؤں کی بڑی تعداد دیکھ کر العیاضیہ اور تلعفر کے مغرب میں واقع علاقوں کی جانب فرار ہو گئے"۔

یاد رہے کہ آپریشن کی مشترکہ قیادت کی جانب سے جمعے کے روز ایک بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ "عراقی افواج نے تلعفر میں انتہائی بہادری کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند داعش تنظیم کا مقابلہ کیا اور ایسی قربانیاں پیش کیں جن سے داعشی رعب میں آ کر ڈھیر ہو جانے پر مجبور ہو گئے"۔

بیان میں کہا گیا کہ "بعض جانب سے یہ دعوی کیا گیا کہ تلعفر کی آزادی کسی معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے جو بالکل بے بنیاد بات ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ شام میں ہونے والی پیش رفت (حزب اللہ اور داعش کے درمیان طے پانے والا سمجھوتا) کے لیے ایک جواز ہے۔ یہ بات اچھی طرح ذہنوں میں رہنا چاہیے کہ عراق کی دلیر افواج نے عراقی صوبوں سے دہشت گردوں کو نکالا ہے اور ان کو موت کے گھاٹ اتار کر ہزیمت کا مزہ چکھایا ہے۔ داعشیوں اور ان کی معاونت کرنے والوں کا سر کچلنے کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ عراقی سرزمین کی آخری بالشت کو بھی آزاد کرا لیا جائے اور بے گھر افراد با عزت طور پر پورے اکرام کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں"۔

کہا جا رہا ہے کہ جمعے کے روز جاری ہونے والا عراقی فورسز کا بیان عراقی نائب صدر نوری المالکی کے اس بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں المالکی نے تصدیق کی تھی کہ تلعفر کی آزادی داعش تنظیم کے عناصر اور عراقی حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے ذریعے عمل میں آئی ہے۔