امریکی کانگریس کی خفیہ رپورٹ، قطر اور اسرائیل کے درمیان جاری تعلقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی کانگریس کی ایک خفیہ رپورٹ میں دوحہ کے ایران اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

سال 2008 میں جاری اس رپورٹ میں اُس پالیسی سے نقاب ہٹایا گیا ہے جو دوحہ نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کی جانب سے اختیار کی گئی حکمت عملی سے دُور رہتے ہوئے اپنائی۔

اگرچہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات وقفے وقفے سے کشیدگی اور تناؤ کا شکار رہے تاہم اس کے باوجود قطر کی یہ شدید خواہش رہی کہ تہران کے ساتھ مضبوط تعلقات بنائے جائیں۔

امریکی کانگریس کی رپورٹ میں ایسی مزید بار ہا ملاقاتوں کا انکشاف کیا گیا ہے جو قطری عہدیداران اور ایرانی حکومت کے اندر موجود شخصیات کے درمیان بالخصوص آخری چند سالوں کے دوران ہوتی رہیں۔

کانگریس کی رپورٹ کے متن کی تصدیق دوحہ میں ایک سابق امریکی سفیر جوزف لیبرن کے ایک ٹیلی گرام سے بھی ہوتی ہے جس میں لیبرن نے باور کرایا کہ "دوحہ اپنے ذمے داران کی زبانی کسی طور بھی ایران کو تنہا کرنے یا اس پر بم باری کرنے اور یا اسے دشمن قرار دینے پر آمادہ نہیں اور قطری ذمے داران کے مطابق دوحہ اور تہران کے تعلقات دوستانہ ہیں"۔

یہ وہ بیانات ہیں جو دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والے اُن ممالک کے شکوک کو مضبوط کرتے ہیں جنہوں نے قطر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دیوار کے پیچھے خلیج تعاون کونسل کے فیصلوں کے مخالف علاحدہ پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔

کانگریس کی رپورٹ میں دوحہ اور تل ابیب کے درمیان مستقل تعلقات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور اسرائیلی ذمے داران کے دوحہ کے دوروں کی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں سامنے آنے والی نمایاں ترین پیش رفت میں قطر کی جانب سے عرب اسرائیل ورکنگ گروپوں کی میزبانی ، 1996 میں اسرائیلی وزیر اعظم شمعون پیریز کا استقبال اور قطر کی جانب سے دوحہ میں اسرائیلی تجارتی مشن کے قیام پر آمادگی شامل ہے۔

امریکی کانگریس کی رپورٹ میں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ قطر نے دوحہ میں اسرائیلی نمائندگی کے دفتر کو بند کیا۔ رپورٹ میں قطری ذمے داران کے حوالے سے باور کرایا گیا ہے کہ سال 2000 میں فلسطینی انتفاضہ کے پھیل جانے کے بعد انتہائی قلیل پیماںے پر کام کا سلسلہ جاری رہا تاہم واقعتا دفتر کی بندش نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں