حزب اللہ اور داعش کی ڈِیل ایران اور قطر کی سرپرستی میں ہونے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو لبنان میں عرسال کے میدانی علاقے میں حزب اللہ اور داعش تنظیم کے درمیان طے پائے جانے والے سمجھوتے کے بارے میں نئی تفصیلات کا علم ہوا ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت داعش تنظیم کے 600 جنگجوؤں کو لبنان شام سرحد سے کوچ کر کے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور کی جانب منتقل ہو جانا تھا۔ معاہدے میں شامل شرائط میں لاپتہ لبنانی فوجیوں کے انجام کے بارے میں انکشاف اور داعش کے زخمیوں کے بدلے 3 جنگجوؤں کی لاشوں کا تبادلہ (مذکورہ لاشوں میں ایک ایرانی فوجی محسن حجی کی ہے جب کہ بقیہ دو شامی حکومت کے جنگجوؤں کی ہیں) اور احمد معتوق نامی قیدی کی رہائی شامل ہے۔

عرسال کی بلدیہ کی نائب سربراہ ریما کرنبی نے اس حوالے سے تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ " داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی منتقلی کے لیے 17 بسیں فراہم کی گئیں۔ ان میں 4 بسوں میں خواتین اور بچے سوار تھے جب کہ 13 بسیں داعش کے جنگجوؤں سے بھر گئیں"۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے واضح کیا تھا کہ داعش کے ساتھ معاہدے میں 670 شہریوں، 26 زخمیوں اور داعش کے 308 مسلح ارکان کا انخلاء شامل تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے عرسال کی بلدیہ کی نائب سربراہ نے حزب اللہ اور داعش کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ضامن اور شریک فریقوں کی جانب اشارہ کیا جو کہ قطر اور ترکی ہیں۔ کرنبی کے مطابق حزب اللہ اور النصرہ محاذ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے میں شریک چار فریقوں ایران، شامی حکومت، قطر اور ترکی کا مربع اس مرتبہ حزب اللہ اور داعش کے درمیان ہونے والے معاہدے میں بھی شریک ہے۔

کرنبی نے بتایا کہ "اس سے قبل حزب اللہ اور النصرہ محاذ کے درمیان ڈیل ایرانی، قطری اور ترکی ضمانتوں سے انجام پائی۔ قطر کی جانب سے عرسال کے میدانی علاقے میں النصرہ محاذ کے سربراہ مالک التلی کو 3.5 کروڑ ڈالر کی مالی رقم بھی پیش کی گئی۔ اس میں سے 30 لاکھ ڈالر مقامی شامی ثالثوں اور مذاکرات کاروں کے حوالے کیے گئے"۔ مذکورہ معاہدے کے تحت قلمون میں النصرہ محاذ کے امیر ابو مالک التلی کو متعدد مسلح ارکان اور ان کے خاندانوں سمیت اِدلب میں النصرہ کے گڑھ کوچ کرجانا تھا۔ اس کے عوض النصرہ محاذ کی جانب سے حزب اللہ کے 8 کمانڈروں کو رہا کیا جانا تھا۔

اس کے علاوہ حزب اللہ کے لاپتہ جنگجوؤں کی لاشیں حوالے کیے جانے کے بدلے 3 شخصیات کو رومیہ کی جیل سے آزاد کر کے النصرہ محاذ کے حوالے کیا جانا تھا۔ اس طرح 160 بسیں تقریبا 10 ہزار افراد کو لے کر روانہ ہوئیں جن میں النصرہ کے مسلح ارکان اس کے زخمیوں اور اِدلب کی جانب نقل مکانی کرنے والوں کی مجموعی تعداد 7800 تھی۔ ان کے علاوہ اہل ِشام بریگیڈز کے 3000 جنگجو بھی شامل تھے۔

قطر کا ثالثی کا کردار

ادھر باخبر لبنانی ذرائع نے بتایا ہے کہ قطری ثالثی (قطری انٹیلی جنس کے نائب سربراہ) نے ایک مقامی شامی مذاکرات کے ذریعے بات چیت کے عمل اور رقوم کی ادائیگی میں اہم کردار ادا کیا۔

ریما کرنبی کے مطابق حزب اللہ اور ایرانی وزیر خارجہ نے داعش کے قافلے پر بین الاقوامی اتحاد کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے "داعش کے مسلح" عناصر ان کے زخمیوں اور خواتین کی انسانی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ قافلے میں کوئی "انتہائی اہم شخصیت" بھی موجود ہے جس کو تنظیم نے سلامتی کے ساتھ پہنچانے کے واسطے اپنے ہمراہ کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں