حوثی ملیشیا کا اپنے حلیف علی صالح کو گرفتارکرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے میں ملوث ایران نواز حوثی باغیوں اور ان کے حامی سابق مںحرف صدر کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے جس کے بعد حوثیوں نے سابق صدر کو حراست میں لینے اور انہیں صنعاء میں موجود اپنی رہائش گاہ سے صعدہ گورنری لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یمن سے ملنے والے ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کی جماعت پیپلز کانگریس کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران نواز حوثی باغی گروپ کے ایک سرکردہ لیڈرمحمد البخیتی نے الزام عاید کیا ہے کہ سابق مںحرف صدر ان کے ساتھ اتحاد رکھنے کے باوجود منافقانہ سیاست کررہے ہیں۔ البخیتی کے بہ قول علی صالح کی جماعت کے 24 اگست کو صنعاء میں ہونے والے 35 ویں تاسیسی اجتماع میں حوثیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد صنعاء میں جمع کرنے کا مقصد علی صالح کا حوثیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا تھا۔ وہ احتجاج اور دھرنے کی آڑ میں [باغیوں کی قائم کردہ ] حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔

البخیتی کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات نہ کرتے تو علی صالح اور ان کی جماعت کا ھجوم حوثیوں کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔

’فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں محمد البخیتی نے سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے علی صالح کی پارٹی رہ نماؤں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ علی صالح کو جماعت سے نکال باہر کریں اور قیادت کسی دوسرے لیڈر کو سونپیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی علی صالح کو ختم نہیں کرنا چاہتے مگر پیپلز کانگریس کی قیادت کسی دوسرے شخص کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔

ادھر حوثیوں کےایک رکن پارلیمنٹ احمد سیف حاشد نے کہا ہے کہ حوثی علی عبداللہ صالح کے ٹھکانے سےآگاہ ہیں تاہم انہوں نے حوثیوں کو علی صالح کو قتل کرنے کسی بھی عزم سے باز رہنے پر زور دیا اور کہا کہ اگر حوثیوں کے ہاتھوں علی صالح مارا گیا تو ہم خود انہیں شہید لکھنے پر مجبور ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں