داعش کے 113 جنگجو بشارالاسد کی فوج میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام سے ملنے والی مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حمص اور دیر الزور شہروں میں موجود شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے 113 جنگجوصدر بشارالاسد کی فوج میں شامل ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام سے باوثوق ذرائع سے پتا چلا ہے کہ داعشی جنگجوؤں نے دیر الزور میں لڑائی نہ کرنے کی شرط پر اسدی فوج میں شمولیت اختیار کی ہے جب کہ اسد رجیم کے ذریعے کا کہنا ہے کہ فوج میں شامل ہونے والے داعشی شدت پسندوں کو تدمر میں ان کے خاندانوں سے ملا دیا گیا ہے۔

قبل ازیں سوموار کو شام کےسرکاری ٹی وی پر نشر کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سرکاری فوج اور اس کے حلیف دیر الزور سے صرف تین کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔

اتوار کے روز امریکا کی قیادت میں سرگرم عالمی اتحاد نے بتایا تھا کہ دیر الزور میں داعش دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک گروپ سے وابستہ جنگجو ابھی تک اپنی بسوں میں صحراء میں ہیں جب کہ دوسرے گروپ کو شام کی سرکاری فوج نے پکڑ لیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کو ان کی بسوں میں کھانا اور پانی بھی مہیا کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی اتحادی فوج کے ترجمان کرنل راین ڈیلون نے ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ ایک بیان میں بتایا کہ فضائی حملوں میں دیر الزور میں 85 داعشی جنگجو ہلاک اور ان کی 40 گاڑیاں تباہ کردی گئی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بمباری سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔

اس سے پہلے یہ اطلاعات آئی تھیں کہ 17 بسوں پر 300 داعشی اور 300 عام شہری دیر الزور پہنچے ہیں۔ انہیں دیر الزور پہنچانے میں شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیا نے تحفظ فراہم کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں