دو پاکستانیوں کے حج کی ادائی میں 25 سال کی تاخیر کیوں ہوئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان سے تعلق رکھنے والے رواں سال حج کی سعادت حاصل کرنے والے خوش نصیبوں میں دو عمر رسیدہ دوست بھی شامل ہیں جن کی عمریں 80 سال سے زاید ہیں، مگر ان دونوں کی پرخلوص باہمی محبت فریضہ حج کی ادائی میں 25 سال کی تاخیر کا موجب بھی بنی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دراصل دونوں پاکستانی شہریوں نے دوستی کی لاج رکھتے ہوئے ایک ساتھ فریضہ حج ادا کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا مگر ان میں سے ایک کے پاس حج کے لیے وسائل نہیں تھے۔ اس کے دوسرے دوست نے پچیس سال ایک ساتھ حج کے لیے دوسرے دوست کی تیاریوں کا انتظار کیا یہاں تک کہ دونوں کی عمریں اسی سال سے تجاوز کرگئیں۔

حاجی اعجاز دلالی احمد اور اس کے دوست احمد دلو راج کا بچپن سے یارانہ چلا آ رہا تھا۔ دلالی احمد تو کئی سال قبل حج کے وسائل جمع کرنے میں کامیاب ہوگیا مگر اس نے یہ کہہ کرحج سے انکار کردیا تھا کہ جب تک اس کا دوست احمد دلو راج بھی حج کے وسائل مہیا نہیں کر لیتا وہ حج پر نہیں جائے گا۔ چنانچہ اس کے دوست کو حج کی تیاری کے لیے 25 سال کا عرصہ لگا اور انہوں نے رواں سال حال ہی میں ایک ساتھ فریضہ حج ادا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر کرلیا۔۔

اعجاز دلالی نے منیٰ میں رمی جمرات کے بعد اپنے دوست راج کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میرا زندگی بھر کا دوست ہے۔ آج اس کی بینائی بھی جا چکی ہے۔ ہم دونوں کئی سال سے ایک ساتھ حج کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ میرے دوست کے پاس مالی وسائل ایسے نہ تھے کہ وہ حج کرسکتے جب کہ میرے پاس حج کی مکمل تیاری تھی۔ میں نے پچیس سال اپنے دوست کا انتظار کیا ہے۔ دونوں حجاج کرام نے بیت اللہ کی زیارت اور حج کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق اور اللہ کی مدد پر شکر ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں