خان شیخون پر شامی حکومت نے کیمیائی حملہ کیا تھا: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں کم سے کم تیس مرتبہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔شامی فوج ہی نے خان شیخون پر سب سے تباہ کن حملہ کیا تھا جس کے بعد امریکا نے ایک فضائی حملے میں شامی فوج کے لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا تھا۔

اقوام متحدہ کے شام کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ شامی حکومت کے ایک طیارے نے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پر اپریل میں سیرین گیس سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اسّی سے زیادہ شہری مارے گئے تھے۔ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

رپورٹ میں اس حملے کو ایک جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شام کی سرکاری فورسز نے حزب ِاختلاف کے زیر قبضہ علاقوں میں شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا سلسلہ جاری رکھا ہو اہے۔

قبل ازیں کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے اس کیمیائی حملے کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ اس میں سیرین گیس کے اجزا شامل تھے لیکن اس نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں اب تک کیمیائی ہتھیاروں کے تینتیس حملے کیے جاچکے ہیں۔ان میں ستائیس شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے کیے ہیں اور ان میں بھی سات یکم مارچ سے سات جولائی کے درمیان کیے گئے ہیں۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے چھے حملوں کے ذمے داروں کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

اسد حکومت متعدد مرتبہ شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کر چکی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے خان شیخون میں ہتھیاروں کے ایک ڈپو پر حملہ کیا تھا اور وہاں سے کیمیائی گیس خارج ہوئی تھی۔ لیکن اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں نے اس کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں