یمنی بچوں میں فرقہ وارانہ نظریات پھیلانے کے لیے حوثیوں کا رسالہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں حوثی ملیشیا اپنے ایرانی مسلکی اور فرقہ وارانہ خیالات کو پھیلانے کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔ حوثیوں نے یمنی بچوں کو اپنی کوششوں کا خاص محور بنا رکھا ہے تا کہ بچپن سے ہی ان کے ذہنوں میں قتل و غارت گری اور موت کے خیالات رچ بس جائیں اور مستقبل میں وہ حوثیوں کے عقائد اور نظریات کے حامل جنگجوؤں کی صورت اختیار کر لیں۔

باغی ملیشیا نے کچھ عرصہ قبل "جہاد" کے نام سے بچوں کے لیے ایک رسالہ جاری کیا ہے۔ یہ رسالہ "امام مہدی ثقافتی" ادارے کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ حزب اللہ اور ایران سے تعلق رکھنے والے مشیروں کا حامل یہ ادارہ اس سے قبل رمضان میں بچوں کے لیے ایک ڈرامہ سیریل بھی تیار کر چکا ہے جس میں بچوں کو لڑائی کے لیے حوثیوں کی صفوں میں شریک ہونے پر اکسایا گیا تھا۔ یہ ادارہ اثنا عشری شیعوں کے عقائد سے متعلق کتب بھی شائع کرتا ہے۔

مذکورہ رسالہ "جہاد" کے اب تک آٹھ شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اس میں شامل مواد عقیدے کے علاوہ حوثی ملیشیا کے مسلکی رجحان کے تحت لڑائی میں شریک ہونے پر اکساتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلکی اور دہشت گردانہ خیالات اور نظریات کے بیج بھی بوئے جاتے ہیں جس میں لڑائی ، محاذوں پر جانے اور ہتھیاروں کا استعمال سیکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔

رسالے کے موضوعات میں شیعہ مراجع سے منسوب جھوٹے قصے اور کہانیاں شامل ہوتی ہیں تا کہ بچوں کو قائل کر کے گمراہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ حوثیوں کی شیعہ سوچ کے بارے میں مسلکی ثقافتی مقابلے میں ترتیب دیے جاتے ہیں اور ان میں شریک ہونے والے بچوں کو مالی انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔

رنگین اور جاذب نظر انداز چھاپا جانے والا یہ رسالہ حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے بچوں میں وسیع پیمانے پر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔
مبصرین کے نزدیک بچوں کو فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کا نشانہ بنانے کا مقصد نسلوں کا مستقبل تباہ کرنا اور باغی ملیشیا کی جنگ کی بھٹیوں میں جھونکنے کے لیے کم عمر بچوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم حلقوں نے یمن کے بچوں کو تحفظ دینے کے لیے کام کرنے کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا تا کہ انہیں حوثیوں کی جانب سے فرقہ واریت کا نشانہ بننے سے روکا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں