یمن : حوثی ملیشیا کی جانب سے ریپبلکن گارڈز کی بحالی کے مراکز قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ذرائع نے "مارب پریس" کو بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اجتماعی گرفتاریوں کی مہم نے معزول صدر علی عبداللہ صالح کے پیروکار ریپبلکن گارڈز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

اس طرح کی بھی معلومات ہیں کہ معزول صالح کی جانب سے بڑے پیمانے پر دست برداری کے باوجود حوثی ملیشیا نے صالح کی جماعت میں شہری اور عسکری رہ نماؤں کو اغوا ، دھمکانے اور زدوکوب کرنے کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے باغیوں کی حکومت میں وزیر دفاع کے محافظین اور ساتھیوں میں سے 14 افراد کو گرفتار کر لیا جن میں کئی افسران بھی شامل ہیں۔ ان افراد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنی تنخواہیں وصول کر رہے تھے۔

دیگر ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے نئے بھرتی افراد کے لیے آبادکاری مراکز کے علاوہ ذمار میں ریپبلکن گارڈز کے عسکری اہل کاروں اور افسران کی بحالی کے لیے بھی مراکز قائم کیے ہیں۔

معلومات کے مطابق حوثی ملیشیا بھرتی کیے جانے والے افراد کے لیے مختصر تربیتی کورسز منعقد کروا رہے ہیں جن کے دوران یہ افراد حوثی ملیشیا کے سرغنے عبدالملک الحوثی کی وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔

نئے بھرتی ہونے والوں کے لیے شرط عائد کی جاتی ہے کہ تنخواہوں کی وصولی کے واسطے ان کو حوثی ملیشیا کے نعرے لگانا ہوں گے اور پھر ان کو لڑائی کے محاذوں پر بھیج دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں