.

شام میں کیمیائی اسلحہ تیار کرنے والی فیکٹری پر اسرائیلی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جمعرات کے روز شامی شہر حماہ کے مغربی مضافاتی شہر مصیاف میں کیمیائی اسلحہ تیار کرنے والی ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا ہے۔

شامی فوج نے اسرائیلی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے مصیاف کے قریب فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس میں دو فوجی ہلاک ہوئے جبکہ نشانہ بنائے جانے والے ہدف کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔

ادھر انسانی حقوق مانیٹرنگ گروپ نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے سائنسی تحقیق اور مطالعہ کے مرکز پر بمباری کی۔ یہ مرکز امریکی پابندیوں کی زد میں ہے کیونکہ یہاں شام غیر روایتی اسلحہ تیار کرتا ہے۔

درایں اثنا فلسطین میں ‘العربیہ’ کے نامہ نگار نے بتایا اسرائیل نے جمعرات کے روز کیمیائی اسلحہ اور میزائل بنانے کے ٹھکانے پر بمباری کی۔ اس اڈے پر S60 طرز کے میزائل تیار کئے جاتے ہیں، جنہیں عمومی طور پر حزب اللہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

نامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ جس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا سے حزب اللہ کے لئے تیر بھدف میزائل تیار کرنے والی فیکٹری کے طور پر ترقی دی جانی تھی کیونکہ ایران حزب اللہ کے لئے تیر بھدف اور بیلسٹک میزائل تیاری کرنے والے اداروں کا ایک نیٹ ورک تیار کرنا چاہتا ہے۔ شام میں جس فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا وہ ایران ہی کی زیر نگرانی چلنے والا منصوبہ تھا جہاں حزب اللہ کے لئے اسلحہ تیار کیا جاتا تھا۔

شامی اہداف پر اسرائیلی بمباری ایک ایسے وقت کی گئی ہے کہ جب تل ابیب حزب اللہ کے ساتھ ممکنہ جنگ کی تیاریوں میں بہتری کے لئے بڑی فوجی مشقیں کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیلی بمباری کا ہدف شام کے شہر حمیمم میں روسی فوجی بیس سے صرف 70 کلومیٹر دور واقع ہے۔