.

یمن کے مستقبل میں معزول صدر کا کوئی کردار نہیں: المخلافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے کہا ہے کہ سابق معزول صدر علی عبداللہ صالح کا یمن کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جب دوسری جانب علی صالح اور حوثیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔

الحدث ٹی وی چینل کے مطابق یمن کے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ علی صالح کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی تمام خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

عبدالملک المخلافی نے کہا کہ حوثی اور علی صالح اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔ حوثی اقتدار کے بھوکے ہیں جب کہ علی صالح انہیں مال غنیمت کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ المخلافی کے مطابق حوثیوں اور علی صالح کے درمیان حالیہ مفاہمت عارضی ہے۔

’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں عبدالملک المخلافی کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں جاری کشیدگی کا فوجی کے بجائے سیاسی حل چاہتی ہے۔ فوجی کارروائی حکومت کا فیصلہ نہیں بلکہ باغیوں کی طرف سے ہمیں مجبور کیا گیا۔

ادھر یمن کی مسلح افواج کے نئے چیف جنرل طاہر العقیلی نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں اور ان کے سہولت کاروں کی مکمل شکست تک لڑائی جاری رہے گی۔

جنرل العقیلی کا کہنا تھا کہ فوج یمن قوم کے تحفظ کا دست وبازو ہے۔ جب تک ملک کا ایک ایک کونا باغیوں سے آزاد نہیں کیا جاتا اس وقت فوج اپنا آپریشن جاری رکھے گی۔ انہوں نے یمن میں ایرانی اور فارسی اثر ونفوذ ختم کرنے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں جاری عرب اتحادی فوج کے آپریشن کو سراہا اور کہا کہ عرب اتحاد نے یمن میں ایرانی عزائم ناکام بنا دیے ہیں۔