.

حوثیوں کا پہلی مرتبہ افریقی پناہ گزینوں کو بطور جنگجو بھرتی کرنے کا اقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے جمعرات کے روز پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنی جانب سے لڑائی میں شرکت کے لیے افریقی پناہ گزینوں کو بطور اجرتی قاتل بھرتی کیا۔ اس سے قبل حوثی عناصر 2014 کے اواخر میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے اور جنگ بھڑکانے کے بعد سے اُن رپورٹوں کی مسلسل تردید کرتے چلے آ رہے تھے جن میں اس معاملے پر روشنی ڈالی گئی۔

حوثیوں کے میڈیا نے ایک صومالی اجرتی قاتل جنگجو کی تصویر نشر کی ہے جو عید الاضحی کے پہلے روز یمن اور سعودی عرب کی سرحد پر حوثیوں کی صف میں شامل ہو کر لڑتے ہوئے مارا گیا۔

حوثیوں نے عبدالفتاح محمد سید نامی اس صومالی کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے۔

یاد رہے کہ یمنی فوج کئی مرتبہ بالخصوص المخا اور تعز کی آزادی کے لیے کیے جانے والے آپریشنوں کے دوران حوثی ملیشیا کی صفوں میں شامل افریقی اجرتی قاتلوں اور جنگجوؤں کے مارے جانے اور قیدی بنائے جانے کا اعلان کر چکی ہے تاہم باغی ملیشیا اس سے انکار کرتی تھی۔

انسانی ڈھالیں

اس سے قبل یمن کی آئینی حکومت ایسے شواہد کے وجود کی تصدیق کر چکی ہے جن سے حوثی ملیشیا کا لڑائی کے محاذوں پر اوّلین صفوں میں افریقی پناہ گزینوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنا ثابت ہوتا ہے۔

حکومت کے مطابق وہ ایک مربوط کیس تیار کر رہی ہے جس سے حوثی جماعت اور ایرانی نظام کے یمن کی آئینی حکومت کے خلاف لڑائی میں غیر ملکیوں کو بھرتی کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ کیس تیار کر لینے کے بعد اسے عالمی سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔

جنگ کے باوجود ایتھوپیا اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افریقی پناہ گزین یمن کا رخ کرتے ہیں۔ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ "باغی ملیشیائیں بعض پناہ گزینوں کو اپنی جانب سے بطور اجرتی قاتل لڑنے کے واسطے استمعال کرتی ہیں"۔