.

روپوش ’داعشی ڈان‘ شکست کا انتقام لینے کی تیاری میں سرگرم

البغدادی زندہ مگر کسی خفیہ مقام پر مقربین کے حصار میں ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی انتہائی خوفناک دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ اور اس کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو شام اور عراق میں پے درپے ہونے والی شکستوں کے بعد اب وہ زخمی بھیڑیے کی طرح انتقام لینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی’ کے مطابق عراق کے شہر موصل اور تل عفرمیں سرکاری فوج کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنے کے بعد البغدادی زیرزمین کسی خفیہ مقام پر روپوش ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ البغدادی کا پتا چلانا اور اسے گرفتار کرنا آسان نہیں۔ پہلے تو اس کے ٹھکانے کا پتا چلانا مشکل ہی مشکل ہے۔ اس کے علاوہ اس تک رسائی ممکن نہیں کیونکہ اس کے گرد مقربین کا مضبوط حصار ہے جسے توڑنا آسان نہیں ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ البغدادی جہاں بھی روپوش ہے مگر وہ موصل، تلعفر اور الرقہ میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

عراق کے صوبہ کردستان کےانٹیلی سیکیورٹی انفارمیشن شعبے کے ایک عہدیدار لاھور طالبانی کا کہنا ہے کہ البغدادی کے منصوبے کافی پیچیدہ ہیں۔ اس نے داعش سے وابستہ جنگجوؤں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے مغربی ملکوں میں غیر معمولی انداز میں حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ منصوبہ بندی دراصل داعش کوعراق اور شام میں لگنے والے شکست کے زخموں کا رد عمل ہے۔

اخبار ’ٹیلی گراف‘ سے بات کرتے کرتے ہوئے لاھور طالبانی نے کہا کہ البغدادی کو پکڑنا آسان نہیں۔ وہ اپنے قبیلے اور تنظیم کے انتہائی وفادار لوگوں کے حصار میں ہے۔ اس کے ارد گرد وہ لوگ ہیں جنہیں وہ عرصے سے جانتا ہے۔ البغدادی کسی ایسی جگہ ہے جہاں روشنی کا گذر بھی نہیں۔ کسی بھی ناگہانی کارروائی سے بچنے کے لیے وہ مواصلاتی آلات بھی استعمال نہیں کرتا۔ اسے اگر کوئی پیغام دینا ہوتا ہے تو اپنے اینجنٹوں کی مدد سے تنظیم کے اہم کارندوں تک پہنچاتا ہے۔

وادی الفرات میں روپوش

عراق سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار اور جہادی تنظیموں کے امور کےماہر ھشام الھاشمی کا کہنا ہے کہ داعشی خلیفہ البغدادی وادی فرات میں شام کے علاقے البوکمال اور عراق کے القائم شہروں کے درمیان کسی جگہ روپوش ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ البغدادی اپنے ڈرائیور ابو عبدالطیف الجبوری اور خصوصی ایلچی مسعود الکردی کے ہمراہ وادی فرات کے کسی مقام پر پر ہے۔ اس کی وجہ یہ البغدادی کے ڈرائیور اور کارندہ خاص کو وادی فرات میں متعدد بار دیکھا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش نے عراق اور شام میں شکست کے بعد افغان طالبان کی پالیسی اپنائی ہے۔ جس طرح سنہ 2001ء میں طالبان نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد غیرملکی فوج کے خلاف گوریلا کارروائیوں کا آغاز کیا اور اس کی قیادت روپوش ہوگئی تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ داعش کو شہروں میں شکست تو ہوئی ہے مگر اس کی جنگی مہارت اور لڑائی کی صلاحیت پر زیادہ اثر نہیں پڑا ہے۔

واشنگٹن انسٹیٹٰوٹ فار مڈل ایسٹ پالیسی سے وابستہ تجزیہ نگاروں کے مطابق البغدادی اور ان کے ساتھی خود کو دوبارہ جنگ کے لیے تیار کررہے ہیں۔ وہ موت سے بچنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کرکے پھر سے لڑائی کا آغاز کرسکیں۔